اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ وار حملہ تھا جس میں چار مسافر طیاروں کو ہائ جیک کر اہداف سے ٹکرایا گیا جبکہ واقعے کی سرکاری کہانی کو ابھی تک بہت سے دانشور اور محقق نہیں مانتے۔
جمعرات کو تیرہویں برسی کے موقع پر کئی سو افراد نے اس واقعہ کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی۔
امریکی بحریہ کے ایک سابق ملازم جوئے سپوٹو نے پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ منصوبہ بند سازش تھی۔ مجھے ذرا بھی اس بارے میں شک نہیں ہے۔ میں سرکاری کہانی کو ذرہ برابر بھی نہیں مانتا۔ آپ کو تو ان عمارتوں کے گرنے کے بارے میں معلوم ہی ہوگا کہ عمارت کے گرنے کا عمل وہاں سے شروع ہوا جو عمارت کا سب سے مضبوط حصہ تھا۔
مظاہرے میں شامل دوسرے لوگوں نے کہا کہ امریکی وزارت دفاع کی صنعت میں شامل کمپنیوں کو11 ستمبر کے واقعہ اور نتیجہ میں مشرق وسطی میں ہوئی جنگوں سے فائدہ پہنچا۔
نائن الیون کے واقعہ کی سچائی کو جاننے کے لئے قائم تنظیم آرکیٹیکٹس اینڈ اجينيرز فار 9/11 ٹرتھ کے رکن رچرڈ گیج نے کہا کہ اسلحے کی صنعت، تیل کی صنعت، میڈیا، انشورنس اور بینکگ کی صنعت کی بڑی کمپنیوں کو 9/11 واقعے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ ہم ہر ایک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غور کریں کہ کون لوگ ان کمپنیوں کے مالک ہیں۔ کون لوگ ان صنعتوں کو چلا رہے ہیں اور ان کی حکومت کے ساتھ کیسے تعلقات ہیں۔
اس گروپ کا کہنا ہے کہ ورلڈ ٹرییڈ کی جڑواں عمارتوں کی تباہی سے متعلق ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ ان عمارتوں کو تباہ کرنے کے لئے پہلے سے دھماکہ خیز مواد لگائے گئے تھے۔ مظاہرین نے 9/11 کمیشن کی رپورٹ کے ان 28 صفحات کو عام کرنے کا مطالبہ جسے ابھی تک عوام کے اختیار میں نہیں دیا گیا ہے۔
واضح رہے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے القاعدہ کو 9/11 حملے کے لئے ذمہ دار قرار دیا تھا اور پھر دہشت گردی کے خلاف مبینہ جنگ کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے اپنی اسٹرٹیجی کے تحت پہلے افغانستان پر اور پھر عراق پر حملے کئے۔
.......
/169