20 اگست 2014 - 13:34
بلوچستان : 2 قبروں میں 13 لاشیں دفن

خضدار؛ بلوچستان کے علاقے خضدار میں اجتماعی قبروں کی دریافت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیاری شہادتیں نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو اس کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خضدار؛ بلوچستان کے علاقے خضدار میں اجتماعی قبروں کی دریافت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیاری شہادتیں نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو اس کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

خضدار میں اجتماعی قبروں کی دریافت اور وہاں سے بر آمد ہونے والی لاشوں سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کے صرف تین صفحات حکومت بلوچستان نے جاری کردیے ہیں۔

روپورٹ کے مطابق شہادتیں اس معیار کی نہیں ہیں کہ اسے فوجداری عدالت میں کسی شخص کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

یہ اجتماعی قبریں اس سال خضدار کے علاقے توتک میں دریافت ہوئی تھیں۔بلوچستان حکومت نے ان کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد نور مسکانزئی پر مشتمل ٹریبونل قائم کیا تھا۔

تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اس کی رپورٹ ٹریبونل نے20 مئی کو حکومت کے حوالے کی تھی۔ لیکن حکومت نے اس کے اجراء کے لیے دو ماہ 29 دن بعد ایک ایسے وقت کا انتخاب کیاجب پاکستان کی میڈیا کی تمام تر توجہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کی اسلام آباد میں جاری دھرنوں پر مرکوز ہے۔

چونکہ میڈیا کو مکمل رپورٹ حوالے نہیں کی گئی جس کے باعث یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ معیاری شہادتیں کس وجہ سے حاصل نہیں کی جاسکیں۔

اگرچہ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ معیاری شہادتیں نہیں مل سکیں تاہم رپورٹ کے مطابق ’پھر بھی حالات اور ممکنات کا تجزیہ کرنے سے قوی اشارے ملتے ہیں اور انگلیاں اس وقوعہ کی مناسبت سے میر شفیق الرّحمان اور ان کے ساتھیوں کے طرف ہی جاتے ہیں۔‘ تاہم میر شفیق الرحمان مینگل نے اسے بے بنیاد الزام قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے بارے میں ایسے الزام کا اندازہ لگانا بھی سراسر جھوٹ ہے۔ ٹریبونل نے سات ماہ تک انتھک محنت کی لیکن ٹریبونل کی اپنی رپورٹ کے مطابق سات ماہ کے دوران ان کو کوئی ایسی شہادت نہیں ملی جس کے ذریعے کسی شخص کو قصور وار ٹھہراایا جاسکے لیکن ہمارے سیاسی مخالفین کی جانب سے ہمارے مخالفین کے بے بنیاد الزامات کو قوی اشارہ قرار دینا افسوسناک ہے۔”

میر شفیق مینگل نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’بغیر ثبوت کے ایسے بے بنیاد اور توہین الزامات وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ایسٹیبلشمنٹ اور ہمارے سیاسی مخالفین بالخصوص علاقائی سردار کے ڈیل کا نتیجہ ہیں جو کہ ناکام ہوگا۔‘

حکومت بلوچستان کی جانب سے رپورٹ کے جو تین صفحات میڈیا کو جاری کیے گئے ہیں وہ زیادہ تر سفارشات پر منی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شروع ہی میں ریکارڈ پر موجود شہادت کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ماسوائے گواہ نمبر 38 کے کسی بھی گواہ نے پاکستان آرمی، خفیہ اداروں اور حکومت کے بارے میں بیان نہیں دیا لیکن گواہ نمبر 38 کا بیان سنی سنائی باتوں اور خود اخذ کردہ تجزیات پر مبنی ہے اور یہ بغیر تائید کے بے نتیجہ ہے۔

.......

/169