اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جنگ مخالف یہ مظاہرے تل ابیب کے رابن اسكوائر پر ہوئے۔ اس مظاہرے سے کچھ دن پہلے اسرائیلی حکومت نے اسی طرح کی ریلی کے انعقاد پر روک لگا دی تھی۔ اس ریلی کا انعقاد کرنے والوں کے مطابق 10 ہزار لوگوں نے اس ریلی میں ایسی حالت میں حصہ لیا جب اسرائیلی حکام نے اس ساحلی شہر کی سڑکوں پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئےتھے۔
ریلی کا انعقاد کرنے والوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ دائیں بازو کے شدت پسندوں کی دھمکی سے نہیں ڈریں گے اور بحران غزہ کے سفارتی حل کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ مظاہرین نے صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو سے اقتدار سے ہٹنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس ریلی کا انعقاد کرنے والے ایم کے زیہاوا نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی بی آپ ناکام رہے۔ آپ چابی حوالے کیجئے اور گھر جائیے. پانچ سال سے عرب امن کوششوں اور فلسطینی آشتی کی حکومت کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے آپ بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی جنگی طیاروں اور ٹینکوں نے 8 جولائی سے غزہ پر وسیع حملے شروع کئے۔ ان حملوں کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری کی جانب سے دباؤ کے باوجود ان حملوں میں تقریبا 2000 افراد شہید ہوئے جن میں بیشتر عام فلسطینی ہیں۔ اسی طرح 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ 2007 سے اسرائیل نے غزہ پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
بدھ کو 72 گھنٹے کی جنگ بندی میں پانچ دنوں کی توسیع کی گئی اور مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لئے بالواسطہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔
يونسیف کے مطابق تقریبا 400000 فلسطینی بچوں کو غزہ پر اسرائیل کے تباہ کن حملوں میں متاثر ہونے کی وجہ سے سے فوری طور پر نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔






.......
/169