17 اگست 2014 - 09:21
کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات سے عمر عبداللہ کا خطاب

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں یوم آزادی کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کشمیر نے بجلی فیس میں کمی ، پہاڑی زبان بولنے والوں کے لئے 5فیصد ریزرویشن ، بیک وارڈ علاقوں کے لوگوں کے ریزرویشن کوٹا میں دو فیصد اضافے اور بجلی کے شعبے میں ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں یوم آزادی کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کشمیر نے بجلی فیس میں کمی ، پہاڑی زبان بولنے والوں کے لئے 5فیصد ریزرویشن ، بیک وارڈ علاقوں کے لوگوں کے ریزرویشن کوٹا میں دو فیصد اضافے اور بجلی کے شعبے میں ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن بائیکاٹ مہم کو ایک لاحاصل عمل قرار دیا اور اس معاملے پر علیحدگی پسندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ریاست کی اگلی حکومت بھی ان کی قیادت میں قائم ہوگی۔ عمر عبداللہ نے یہ بات دہرائی کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاؤر ایکٹ کی جزوی واپسی کے سلسلے میں ان کی کوششیں جاری رہیں گی اوراسکی مخالفت کرنے والوں کی آنکھیں پر امن صورتحال کودیکھ کر کھل جانی چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے کو ثر ناگ یاترا کو لیکر مزاحتمی خیمے کے احتجاج کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگ ماحولیات کو زیادہ نقصان پہنچانے کے مرتکب ہورہے ہیں 15اگست کے حوالے سے سرینگر کے بخشی اسٹیڈم میں منعقد ہونے والی ریاستی سطح کی سب سے بڑے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے آبادی والے علاقوں سے سیکورٹی فورسز کے نقوش کم کرنے کے اقدامات کو اولین ترجیح دی جس کے تحت نہ صرف فورسز کے زیر استعمال تمام اسکولوں اور اسپتالوں کو سیکورٹی فورسز سے خالی کرایا گیا ہے بلکہ ایک ہزار نجی عمارات ، 300سرکاری عمارات ، 40ہوٹلوں اور 30صنعتی یونٹوں کو بھی فورسز کی تحویل سے چھڑایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مخلوط سرکار کے دور میں سرینگر شہر سے فورسز کے 50سے زائد فورسز بنکر ہٹالئے گئے ۔ عمر عبداللہ نے کہا’’الیکشن نزدیک آرہے ہیں، میں یہ نہیں کہوں گا کہ آپ کس کو ووٹ دیں لیکن ایک بات کو ضرور یقینی بنائیں کہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں کیونکہ یہ ووٹ تعمیر و ترقی میں مدد دیتا ہے ، ووٹ کی بدولت ہی لوگوں کی بنیادی مشکلات کا ازالہ ہوتا ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ پالیسی سے ابھی تک انہوں نے کچھ حاصل نہیں کیا ہے۔
ادھر حریت کانفرنس(ع) نے حریت چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمرفاروق کو ان کے گھر میں نظر بند کر کے ان کی مذہبی اور منصبی فرائض کی ادائیگی پر قدغن عائد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جشن آزادی منانے کی آڑ میں جس طرح پائین شہر کے بیشتر علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو کے نفاظ اور مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کی گئی، وہ نہ صرف یہاں کے عوام کی مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام کو ذہنی اور جذباتی طور زیر کرنے کے منصوبوں کا واضح اظہار ہوتا ہے

.......

/169