اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق غزہ پر ايک مہينے سے زائد عرصے تک آگ اور بارود کي بارش کرنے ، بے گناہ شہريوں، عورتوں اور معصوم بچوں کا قتل عام کرنے، بين الاقوامي قوانين کي دھجياں اڑانے، اور انساني حقوق کي پامالي نيز جنگي جرائم کے ارتکاب ميں ساري حديں پار کرجانے کے باوجود غاصب صيہوني حکومت کو ايسي شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ خود صيہوني حکومت کے اندر اور اسرائيلي پارلمينٹ ميں وزيراعظم نتن ياہو کے استعفے کا مطالبہ شروع ہوگيا ہے -
غزہ پر صيہوني حکومت کے وحشيانہ اور بھيانک حملوں کے دوران اسرائيل کي ناکاميوں کے آثاراور زيادہ نماياں ہونے کے بعد کابينہ کے اندر يہ مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے کہ اسرائيل کي شکست کي وجوہات کا پتہ لگايا جائے اور شکست کے ذمہ دار اسرائيلي حکام کے خلاف کاروائي کي جائے -
اسرائيل سے موصولہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ غزہ جنگ ميں اسرائيل کي شکست پر خود صہيوني معاشرے ميں شديد اختلافات پيدا ہوگئے ہيں –
اس درميان اسرائيلي پارليمنٹ کے ايک رکن نے صہيوني حکومت کے وزيراعظم بنيامين نتنياہو کے استعفے کا مطالبہ کيا ہے - اسرائيلي رکن پارليمنٹ ايتان گابل نے کہاکہ جنگ ميں ناقص اور غلط کارکردگي کا مظاہرہ کرنے پر نتن ياہو کو اپنے عہدے سے استعفا دے دينا چاہئے -
مذکورہ اسرائيلي رکن پارليمنٹ نے کہا کہ غزہ کے آس پاس صہيوني بستيوں کي صورتحال پہلے سے کہيں زيادہ خراب ہوگئي ہے جبکہ نتنياہو اسرائيلي شہريوں سے اپني ناکامي چھپا رہے ہيں -
صيہوني حکومت کي پارليمنٹ ميں خارجہ امور اور قومي سلامتي کميشن کے سربراہ زايو الکين نے بھي فلسطيني گروہوں کےمقابلے ميں صہيوني حکومت کي شکست کے آثار روز بروز نماياں ہونے کے بعد کہا ہے کہ وزيراعظم نتنياہو اور اسرائيلي فوج کے سربراہ بني گانتز کو ان کے عہدوں سے ہٹايا جائے، تاکہ اس شکست کي وجوہات کا جسے تجزيہ نگار بدترين شکست کہہ رہے ہيں پتہ لگايا جائے -
رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ مقبوضہ فلسطين کے جنوبي علاقوں ميں نتنياہوکے خلاف اسرائيليوں کا غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے- ان کا کہنا ہے کہ نتنياہو اور اسرائيلي فوج فلسطيني مزاحمتي گروہوں کے مقابلے ميں بے بس ہيں -
اسي کے ساتھ صہيوني معاشرے ميں بھي نتنياہو کے خلاف ناراضگي بڑھتي جارہي ہے اور سيکورٹي حکام کا کہنا ہے کہ وزيراعظم نتنياہو اور وزيرجنگ موشہ يعلون ہي اس جنگ ميں شکست کے ذمہ دار ہيں -
اس دوران صہيوني حکومت کے وزيرخزانہ نفتالي بنت نے بھي کہا ہے کہ اسرائيلي حکومت نے غزہ پر جنگ شروع کرنے سے پہلے جن مقاصد کا اعلان کيا تھا ان ميں سے وہ کوئي بھي مقصد حاصل نہيں کرسکي -
صيہوني حکومت کي موجودہ صورتحال سن دوہزار چھے ميں لبنان کے خلاف اسرائيل کي جنگ ميں شکست کے بعد والے حالات کي ياد دلاتي ہے، جب حزب اللہ اور لبناني عوام سے شکست کھانے کے بعد صہيوني حکومت کي کابينہ کے کئي وزيروں کو يکے بعد ديگر اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اور بہت سے فوجي جرنيلوں کو بھي اپني نوکرياں گنوانا پڑي تھيں -
اس وقت بھي صہيوني معاشرے ميں جس قسم کا رد عمل ديکھنے ميں آرہا ہے اس سے يہي لگتا ہے کہ فلسطيني گروہوں سے شکست کھانے کے بعد اسرائيلي حکومت کے سامنے نيا سياسي طوفان دستک دے رہا ہے -
.......
/169