12 اگست 2014 - 08:38
اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ناکہ بندی کا شکار غزہ پٹی پر اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے ناکہ بندی کا شکار غزہ پٹی پر اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے ایک بین الاقوامی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے۔

الشرق الاوسط کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زہري نے پیر کی رات کہا کہ حماس اقوام متحدہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ کمیٹی جلد ہی کام شروع کرے گی۔

اقوام متحدہ نے پیر کو اس بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی میں3 ماہرین کو مقرر کیا ہے تاکہ غزہ پر صیہونی حکومت کے حملے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی و جنگ جرائم کے واقعات کا جائزہ لے اور اس بارے میں اپنی رپورٹ تیار کرے۔
كینیڈا کے بین الاقوامی حقوق داں ولیم شاپاس کو اس کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق کے ماہر سینیگال کے دودو دین اور لبنانی نژاد برطانوی وکیل امل علم الدین اس کمیٹی کی رکن ہیں۔
واضح رہے حماس نے غزہ میں مستقل جنگ بندی پر مذاکرات جاری رکھنے کے لئے 72 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز پر اتوار کو موافقت کی تھی۔

دوسری جانب صیہونی پارلیمنٹ کے رکن ايتان گابل نے صیہونی وزیر اعظم بنيامن نیتن یاہو کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔
ايتان گابل نے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ پر جنگ کے دوران ناکام انتظامیہ کی وجہ سے استعفی دینا چاہیے۔ ايتان گابل نے کہا کہ غزہ سے قریب واقع کالونیوں کی حالت بہت خراب ہے اور نیتن ياہو اپنے ہدف کو اسرائیلی عوام سے چھپا رہے ہیں۔
ادھر جنوبی اسرائیل کے علاقوں میں اسرائیلیوں میں نیتن یاہو کے بارے میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیلی عوام کا کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے سامنے بے بس و لاچار ہو گئی ہے۔ غزہ کی جنگ میں نیتن یاہو کی مہم کے طریقہ کار کی وسیع تنقید ہو رہی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات سے شائع اخبار البيان نے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ غزہ پٹی میں فلسطینی مزاحمت کا مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی ناتوانی کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ بنيامن نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹنا پڑے۔ اس رپورٹ کے مطابق صیہونی معاشرے میں بنيامن نیتن یاہو کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور سیکورٹی اہلکار انہیں اور اس حکومت کے وزیر جنگ موشے يعلون کو جنگی مہم میں ناکام مان رہے ہیں۔
.......

/169