اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ترکی کے صدارتی انتخابات میں رجب طیب اردگان صدر منتخب ہوگئے، حکمران پارٹی کے نائب سربراہ کے مطابق طیب اردگان نے 52 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق 99 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان 52 اعشاریہ ایک فیصد ووٹ حاصل کرکے ملک کے بارہویں صدر منتخب ہوگئے، ترکی میں پہلی بار براہ راست عوام کی رائے شماری سے منتخب ہونے والے رجب طیب اردگان کے حریف اکمل دین نے 38 اعشاریہ 8 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ کرد سیاستدان صلاح الدین دیمیرتاس کو 9 اعشاریہ ایک فیصد ووٹ ملے، صدارتی نتائج کے حتمی اور سرکاری اعلان کے بعد طیب اردگان سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کریں گے۔
دیگر ذرائع کے مطابق رجب طیب اردگان کے ترکی کے صدر بننے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں کیونکہ انہوں نے نصف سے زائد ووٹ حاصل کر لئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق موجودہ وزیراعظم نے 52.3 فیصد ووٹ حاصل کر لیے ہیں جبکہ ان کے قریبی صدارتی امیدوار کے ووٹ بھی ان سے 13 فیصد کم ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اردگان ترکی کے پہلے ایسے صدر بنے میں کامیاب ہو جائیں گے جن کا انتخاب عوام نے براہ راست کیا ہے، اس سے قبل پارلیمنٹ کے ذریعے صدر کا انتخاب ہوتا تھا۔ رجب طیب اردگان گذشتہ 10 سال سے ترکی کے وزیراعظم ہیں، ان کے دور حکومت میں ترکی نے بہت تیزی سے معاشی ترقی کی ہے جبکہ انہوں نے 1923ء قائم ہونے والے مصطفٰی کمال اتا ترک کے سیکولر ترکی میں اسلامی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اردگان کے صدر بننے سے انقرہ اتا ترک کے سیکولر خیالات سے مزید دور ہوجائے گا، ترکی اس وقت نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کا ممبر بننے کا بھی امیدوار ہے۔
سی این این، ترک اور این ٹی وی کے مطابق صدارتی انتخابات میں رجب طیب ارگان کے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار اکمل الدین احسان اغلو کو 38.9 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ بائیں بازو کی کردش جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار صلاحتین دیمرتس کو 8.8 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ترکی کے انتخابی ادارے نے سرکاری طور پر نتائج کا اعلان نہیں کیا اس کی جانب سے اسی ہفتے میں ان نتائج کے اعلان کا امکان ہے، البتہ توقع کی جا رہی ہے کہ کامیاب ہونے والے صدر رجب طیب اردگان جلد اپنے حامیوں کے ساتھ ساتھ عوام سے خطاب کریں گے۔ انتخابی مبصرین کے مطابق الیکشن میں ووٹنگ کا تناسب مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں کم ہونے کا امکان ہے، مارچ میں انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 89 فیصد سے زائد تھی۔ اردگان نے اپنا ووٹ استنبول، اکمل الدین احسان اغلو نے باسفورس، اور دیمرتس نے دیاربیکر میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
واضح رہے کہ رجب طیب اردگان کی حکمران جماعت کی جانب سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ملک میں صدارتی نظام کے قیام کے آئینی اصلاحات کی جائیں گی، جس سے تمام انتظامی اختیارات صدر کو مل جائیں گے۔ ترکی کا موجودہ آئین 1980ء کے فوجی دور میں بنایا گیا تھے جس کی رو سے صدر کے پاس کابینہ کی صدارت، وزیراعظم و دیگر وزراء، آئین سازی کے اداروں کے ارکان اور اعلٰی عدلیہ میں ججز کے تقرر کا اختیار نہیں ہے۔ یاد رہے کہ رجب طیب اردوان کی جماعت اے کے پی نے مارچ میں بلدیاتی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔















۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲