اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یورپ اور مدیٹیرینین علاقوں میں انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت غزہ کے نہتے عوام کو ایسے ہتھیاروں سے نشانہ بنارہی ہے جن سے متاثرہ افراد کا جسم پارہ پارہ ہوکر بکھر جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی اس تنظیم نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت فلسطینیوں کے خلاف دائم نامی نہایت خطرناک ہتھیار استعمال کررہا ہے جس میں نہایت شدید دھماکہ خيز مادہ اور سرطان پیدا کرنے والا مواد ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطرناک ہتھیار کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کے جسم پارہ پارہ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔غزہ میں موجود رضا کار ڈاکٹروں کا کہنا ہےکہ صیہونی حکومت کے حملوں میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کا معائنہ کرنے سے یہ پتہ چلا ہے کہ صیہونی حکومت کے اس خطرناک ہتھیار سے فلسطینیوں کے جسم بکھر جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے اس خطرناک ہتھیار سے نشانہ بننے والے کے جسم میں شدید گرمی پیدا ہوتی ہے اور اس کےاعضا جسم سے الگ ہوجاتے ہیں جبکہ جسم پر بم کے ٹکڑے کے نشانات بھی نہیں ہوتے۔ اس صیہونی ہتھیار سے متاثر ہونے والے کے بدن میں شدید سوزش بھی پیدا ہوجاتی ہے جس سے اندرون بدن خونریزی ہونے لگتی ہے اور وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
.......
/169