19 جون 2014 - 14:50
داعش کے بارے ميں مغرب کے طرز عمل پر تنقيد

شام نے داعش گروہ کو دہشت گرد کہنے سے گريز کرنے پر مغربي ملکوں کے ذرائع ابلاغ پر سخت تنقيد کي ہے ۔

ابنا: اقوام متحدہ ميں شام کے نمائندے بشار جعفري نے ان امريکي مبصرين سے ملاقات ميں جنھوں نے شام کے حاليہ صدارتي اليکشن کي نگراني کي تھي کہا کہ دہشت گرد گروہ داعش کے بارے ميں مغربي ملکوں کے ذرائع کا رويہ مکارانہ اور شرمناک ہے ۔ شام کے نمائندے نے کہا کہ مغربي ملکوں کا کوئي بھي چينل داعش کو دہشت گرد نہيں کہہ رہا ہے بلکہ ان مغربي ذرائع ابلاغ کي نظر ميں داعش ايک مليشيا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مغربي ملکوں کے ذرائع ابلاغ ايک ايسے وقت داعش کو دہشت گرد کہنے سے گريز کررہے ہيں جب اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے اس گروہ کو دہشت گرد گروہوں کي فہرست ميں قرار دے رکھا ہے ۔ اقوام متحدہ ميں شام کے نمائندے بشار جعفري نے کہا کہ ہم سب کو چاہئے کہ علاقے کے حالات پر گہري نظر رکھيں، کيونکہ اس وقت جو مشکل ہے وہ داعش نہيں بلکہ اصل مسئلہ اس دہشت گرد گروہ کے حامي اور سرپرست ہيں ۔
بشار جعفري نے کہاکہ داعش القاعدہ کا ہي ايک حصہ ہے جو دوہزارسات ميں عراق ميں تشکيل پايا ہے اور اس کا وجود عراق پر امريکا اور برطانيہ کے حملے کے بعد عمل ميں آيا ہے ۔ شام کے نمائندے بشار جعفري نے ترکي اور خليج فارس کے ممالک خاص طور پر سعودي عرب اورخليج فارس کے ملکوں ميں ذہني اعتبار سے ديواليہ ہوجانےوالے مفتيوں کوجو داعش کے حق ميں فتوے ديتے ہيں، اس گروہ کا حامي بتايا ہے ۔ 

.......

/169