13 جون 2014 - 12:56
ایٹمی سرگرمیاں ہر قسم کی فوجی سرگرمیوں سے عاری ہيں

ایران کے سینئر ایٹمی مذاکرات کار نے ایٹمی ہتھیاروں کے بنانے کی حرمت پر مبنی رہبر انقلاب اسلامی کے فتوے کو ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے غیر فوجی ہونے کے لئے اہم ترین ضمانت ‍ قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سینئر مذاکرات کار عباس عراقچی نے اٹلی کے شہر روم میں، یورپ کی تعلقات عامہ کونسل کے سالانہ اجلاس میں کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں ہر قسم کی فوجی سرگرمیوں سے عاری ہيں اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آيۃ اللہ العظمی خامنہ ای کا جوہری ہتھیاروں کے حرام ہونے پر مبنی فتوی بھی اہم ترین مذہبی اور سیاسی پشت پناہ  کی حیثیت سے، اس مسئلے کو ضمانت فراہم کرتا ہے۔ یورپ کی تعلقات عامہ کونسل کے سالانہ اجلاس میں عباس عراقچی نے اسلامی جمہوریۂ ایران کی ایٹمی پالیسی اور علاقائی مسائل ميں ایران کے موقف کو بھی بیان کیا۔ اس اجلاس  میں یورپی حکام ، علاقائی مسائل منجملہ عراق اور شام کے بارے میں ایران کے موقف اور نظریات سے آگاہ ہوئے۔ واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان 16 جون 2014 سے آسٹریا کے شہر ویانا میں پانچویں دور کے ایٹمی مذاکرات شروع ہورہے ہيں تاکہ حتمی سمجھوتے کے مسودے کے  متن کی تدوین انجام پاسکے ۔ اور اگر 20 جون تک مذاکرات ميں کوئی حتمی سمجھوتہ طے نہیں پاتا تو ممکن ہے کہ اس کے لئے آئندہ چھ ماہ کی مدت میں توسیع کردی جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲