18 اپریل 2014 - 13:25
خواجہ نصیر الدین طوسی کون تھے؟

حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ "اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جب مؤمن فقیہ مرتا ہے تو 'ثَلُمَ فِی الإِسلام' ایک ناقابل اصلاح اسلامی معاشرے میں ایسا شگاف پڑجاتا ہے جو پر نہیں ہوسکتا تو وہ ہم جیسے لوگوں کے مرنے سے نہيں ہوتا جن کا کام مطالعے کے علاوہ کچھ نہیں ہے بھلا ہمارے مرنے سے اسلامی معاشرے میں کون سا خلا پڑ جائے گا؟ یہ جب امام حسین علیہ سلام دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ثلم فی الاسلام ہوتا ہے۔ جو لوگ عقائد کے محافظ ہیں جو اسلامی قوانین اور اجتماعی نظام کے محافظ ہیں جیسے خواجہ نصیر الدین طوسی، علامہ حلی جنہوں نے نمایاں اور شایان شان خدمت کی ہے اگر یہ حضرات مرجائيں تب خلا پیدا ہوتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا؛

سوال: خواجہ نصیر الدین طوسی کون تھے؟، تفصیل بتائیں۔

جواب:

محمد بن محمد بن حسن معروف بہ خواجہ نصیرالدین طوسی (٥٩٧ تا ٦٧٢ ھ ق) کا شمار چھٹی صدی ہجری میں تاریخ تشیّع کے اہم اور بزرگ علماء میں ہوتا ہے۔

انھوں نے علمی سلسلہ میں بہت زیادہ خدمات انجام دی ہیں، ان کی ولادت شہر طوس میں ہوئی؛ دینی اور دنیاوی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد نیشابور چلے گئے اور وہاں پر سطوح عالیہ کی تعلیم حاصل کی۔

نوجوانی میں اپنے والد کی وفات اور نیشاپور پر٦١١ ہجری قمری میں منگولوں کے قبضے کے بعد ناصر الدین عبدالرحیم بن ابی منصور (متولی قہستان) کی دعوت پر قہستان کے قلعے میں چلے گئے۔ بعدازاں قلعہ اَلَمُوت میں منتقل ہوگئے.

خواجہ نصیر ایران پر منگولوں کے پور ے قبضے کے بعد ان کے ہاتھوں اسیر ہو گئے اور جب ان کی علمی اور سائنسی صلاحیتیں نمایاں ہو گئیں  تو ہلاکو خان نے اپنے اس قیدی کو اپنا وزیر بنا لیا۔

خواجہ نصیرہلاکو خان کی وزرات نیز کتاب "تجرید العقائد" یا "تجرید الاعتقاد" کی تالیف کی وجہ سے عالم اسلام میں مشہور ہو گئے۔ اس کتاب نے شیعہ عقاید کے استدلال میں بہت زیادہ اثر مرتب کیا۔ لہذا اس کتاب پر شیعہ اور سنی علماء نے بہت زیادہ تنقیدیں، تعلیقات، اور شرحیں لکھی ہیں۔

انہیں فقہ، اصول، اسلامی عقائد، طبیعیات، ریاضی، ہیئت، حدیث وکلام پر بہت زیادہ مہارت حاصل تھی؛ اسلامیات اور انسانیات کو مختلف ابعاد میں فروغ دینے کی وجہ سے ان کو "استاد البشر" کے لقب سے نوازا گیا۔

فقہ، کلام، معقولات، منقولات اور طبیعیات میں ان کی تاثیر اس حد تک ہے کہ مغربی دانشور نے بھی ان کی تعریف کی ہے ان میں سے ایک جرمن پروفیسر "کارل بروکلمان" (Carl Brockelmann) ہیں جنہوں نے ان کو "علم اوائل" ( قدما‏ء کے علوم = ریاضی، جیومیٹری اور فلکیات) (١) کا رئیس کہا ہے اور ان کو چھٹی ہجری کا مشہور ترین عالم قرار دیا ہے۔

خواجہ کو شاعرانہ ذوق بھی حاصل تھا؛ انھوں نے اپنے دیوان "منازل السالکین" میں بارہ سو نظمیں لکھی ہیں۔

آپ عماد الدین حسن بن علی طبری اور محقق حلی کے ہم عصر تھے، انھوں نے علمی مدارج طے کرنے میں بزرگ علماء اوراساتذہ سے فیض حاصل کیا ہے ہے جن کے نام یہ ہیں:

سراج الدین قُمری، قطب الدین سَرخی، ابی السعادات اصبہانی، فرید الدین نیشاپوری، معین الدین سالم بن بدران مصری، کمال الدین موسیٰ بن یونس بن محمد موصلی شافعی، محمد بن حمدانی قزوینی، وجیہ الدین محمد بن الحسن (جو کہ ان کے جد اعلیٰ تھے) سید فضل اللہ راوندی (سید مرتضیٰ عَلَمُ الہُدیٰ کے شاگرد) . نورالدین علی بن محمد شیعی، نصیرالدین ابوطالب عبداللہ بن حمزہ طوسی، کمال الدین محمد حاسب، قطب الدین مصری، جعفر بن حسن حلی.

خواجہ نے بہت سے مستعد شاگردوں کی تربیت کی جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں :

1۔ سید عبدالکریم بن احمد بن طاؤوس حلی

2۔ قطب الدین محمد بن مسعود شیرازی

3۔ شہاب الدین ابوبکر کازرونی

4۔ ابوالحسن علی بن عمر قزوینی کاتبی

5۔ حسن بن یوسف معروف بہ علامہ حلی

6۔ حسن بن علی بن داوود حلی

7۔ عبدالرزاق ابن فوطی وغیرہ

شہید مرتضی مطہری رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک درس خطاب میں فرماتے ہیں کہ "حالانکہ علمائے اسلام میں شیخ طوسی کے برابر کسی نے بھی دین کی خدمت نہیں کی شاید ہی ایک دو عالم ان کے مرتبے کو پہنچے ہوں"

حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ "اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جب مؤمن فقیہ مرتا ہے تو 'ثَلُمَ فِی الإِسلام' ایک ناقابل اصلاح اسلامی معاشرے میں ایسا شگاف پڑجاتا ہے جو پر نہیں ہوسکتا تو وہ ہم جیسے لوگوں کے مرنے سے نہيں ہوتا جن کا کام مطالعے کے علاوہ کچھ نہیں ہے بھلا ہمارے مرنے سے اسلامی معاشرے میں کون سا خلا پڑ جائے گا؟ یہ جب امام حسین علیہ سلام دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ثلم فی الاسلام ہوتا ہے۔ جو لوگ عقائد کے محافظ ہیں جو اسلامی قوانین اور اجتماعی نظام کے محافظ ہیں جیسے خواجہ نصیر الدین طوسی، علامہ حلی (یہ یاد رہے کہ علامہ حلی خواجہ نصیر الدین طوسی کے ہی شاگرد تھے) ۔۔۔ جنہوں نے نمایاں اور شایان شان خدمت کی ہے اگر یہ حضرات مرجائيں تب خلا پیدا ہوتا ہے۔ (حوالہ کتاب ولایت فقیہ، صفحہ نمبر 183)

انہوں نے علم کلام، فقہ، اخلاق، فلکیات، حدیث اور تاریخ میں مختلف کتابیں تالیف اور تصنیف کی ہیں جن کے نام یہ ہیں:

1۔ تجرید الاعقائد (تجرید الکلام یا تجرید الاعتقاد) ۔

2۔ بقاء النفس بعد بوار البدن

3۔ جواہر الفرائد فی الفقہ

4۔ الفرائض النصیریہ

5۔ آداب المتعلمین

6۔ رسالۃ فی الامامۃ

7۔ رسالہ فی العصمہ

8۔ تلخیص المحصل

9۔ الجبر و الاختیار

10۔ جوابات الطوسی لصدر الدین قونوی

11۔ الفصول النصیریۃ

12۔ قواعد العقائد

13۔ اساس الاقتباس (فی المعانی والبیان)

14۔ خلافت نامہ

15۔ اخلاق ناصری

16۔ الاربعون حدیثاً

17۔ تزکیه الارواح عن موانع الافلاح

اسی طرح مختلف موضوعات پر ان کے تقریبا 180 مقالات ہیں۔

انھوں نے سائنس، اسلامی علوم وتعلیمات اور علوم علوی و جعفری کی ترویج میں بہت زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔

محمد بن محمد بن حسن معروف بہ خواجہ نصیرالدین طوسی آخر کار شہر بغداد میں وفات پا گئے اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں امام موسیٰ بن جعفر (علیہما السلام) کی ملکوتی بارگاہ کے پاس شہر کاظمین میں دفن کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

1۔ سید محمد حسین حسینی جلالی، فہرس التراث، قم، دلیل ما، 1422 ق، جلد 1، صفحہ 539۔

2۔ میرزا عبداللہ افندی تبریزی، تعلیقۃ امل الآمل، قم، کتابخانہ آیۃ الله مرعشی نجفی، 1410 ق، صفحہ 172، بعد از صفحہ 177۔

3۔ آیۃ الله شیخ جعفر سبحانی، موسوعۃ طبقات الفقہاء، قم، موسسۃ امام صادق(ع)، 1418 ق، صفحہ 184، جلد 5، صفحہ 131، و 184، بعد، جلد 6، صفحہ 47 و 69 و 175 و 289 ۔

4۔ سید محسن امین، مستدرکات اعیان الشیعۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1408، جلد 1، صفحه 86 و 87۔

5۔ شیخ آقا بزرگ طہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، قم، اسماعیلیان، 1408 ق، جلد 2، صفحہ 102۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242-110

لیبلز