ابنا: حوزہ علمیہ قم کے خبررساں ادارے"حوزہ"نے ممتاز عالم دین حجت الاسلام و المسلمین میرزا احمد اسدی کے ساتھ ایک گفتگو میں نوروز کے بارے میں کچھ سوالات کئے اور موصوف نے دعائے تحویل سال کے کچھ اقتباسات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس سال کا نوروز گذشتہ سال کی طرح گلستان نبوت کے نورستہ پھول کے ایام سوگواری کے ساتھ آیا ہے آپ اس تقارن کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔گفتگو کے آغاز میں ایام فاطمیہ کی آمد کے موقعے پر امام زمانہ(عج) ان کے نائب بر حق حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای اور ان کے سچے شیعوں کی خدمت میں تعزیت عرض کرتا ہوں ۔نوروز کے پہلے اور دوسرے ایام فاطمیہ کے ساتھ تقارن کو ہم نیک شگون قرار دیتے ہیں کہ روایات کی تعبیر کے مطابق ، یہ تقارن اور ہمآہنگی خدا کی ایک رحمت خاصہ ہے «إِنَّ لِلَّهِ فِي أَيَّامِ دَهْرِكُمْ نَفَحَاتٍ أَلَا فَتَرَصَّدُوا لَهَا؛ خدا وند متعال کی طرف سے تمہارے زمانے میں کچھ رحمتوں کے مواقع ہیں کوشش کیجیے کہ اپنے آپ کو اس رحمت الہی میں شامل کیجیے (۱)تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد خدا کی یہ نسیم رحمت ہم پر چلتی ہے ۔ کبھی زمان و مکان کے حالات موقع فراہم کرتے ہیں کہ انسان حق کی جانب ایک قدم بڑھائے ۔ یہ رحمت کی ہوائیں بہت غنیمت ہیں اور توفیقات کا سبب بنتی ہیں کہ انسان سیر الی اللہ کی جانب ایک قدم یا ایک منزل آگے بڑھ جائے اور اونچے مراتب تک پہونچے۔ یہ تقارن ممکن ہے اسی نوعیت کا ہو۔ یہی کہ ان ایام میں فاطمہ زہراء ص کا تذکرہ ہے یہ خود توفیق کا ایک باب ہے ہم جس قدر بھی اس باب کے نزدیک ہونگے اتنا ہی ہم باب معرفت کے نزدیک ہوں گے ، اور جس قدر اس سے دور ہوں گے اتنا ہی ہم سعادت و معرفت سے محروم ہو جائیں گے۔یہ جو کہ حضرت رسول خدا ص نے حضرت علی ع کے حق میں فرمایا ہے ؛ أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِ مِنَ الْبَاب (۲)یہ صرف حضرت سے مخصوص نہیں ہے بلکہ فاطمہ زہراء س اور دوسرے آئمہ اطہار ع بھی اسی طرح کے ہیں ۔آیا اس تقارن اور ایک ساتھ آنے کو ایک فرصت کہا جا سکتا ہے ؟ہاں ، سو فیصد ،مبادا کچھ لوگ ان ایام میں لہو و لعب اور غفلت میں بسر کریں جو ان کے لیے نقصان کا باعث ہو گا ۔حافظ کا ایک شعر ہے کہ جو ان ایام میں ہم سب کے لیے زبان حال ہے اور ہمیں فاطمیہ کو غنیمت سمجھنا چاہیے؛ حافظ از دست مدہ دولت این کشتی نوح۔۔ورنہ طوفان حوادث ببرد بنیادت ،حافظ اس کشتیء نوح کی دولت کو ہاتھ سے مت جانے دو ورنہ حوادث کا طوفان تمہیں جڑ سے اکھاڑ دے گا ۔بہت ساری باتیں یا حدیثیں نوروز کی تائید یا اس کی رد کے سلسلے میں آئمہ معصومین ع کی طرف سے پیش کی گئی ہیں ۔ کیا اس سلسلے میں کوئی روایت پائی جاتی ہے ؟کسی بھی معصوم نے اس موضوع کو رد نہیں کیا ہے ۔اور مرحوم شیخ عباس قمی نے عید نوروز کے اعمال اور وظائف کے سلسلے میں ایک باب مخصوص کیا ہے جس میں آیا ہے :حضرت امام جعفر صادق ع نے معلی بن خنیس کو کہ جو ان کے خاص اصحاب میں سے تھے اور باب فقہ میں ان سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ، تعلیم دی کہ جب نوروز کا دن آ ئے تو غسل کرو اپنے سب سے پاکیزہ کپڑے پہنو ،اپنے آپ کو بہترین خوشبو سے معطر کرو اور اس دن روزہ رکھو ، اور جب نماز ظہر ، عصر اور اس کے نوافل سے فارغ ہو جاو تو اس ترکیب کے ساتھ چار رکعت نماز پڑھو، کہ پہلی رکعت میں حمدکے بعد دس مرتبہ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ پڑھو اور دوسری رکعت میں حمدکے بعد دس مرتبہ ، قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، تیسریرکعت میں حمدکے بعد دس مرتبہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌاور چوتھی رکعت میں حمدکے بعد دس مرتبہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِاور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِپڑھے اور نماز کے بعد سجدہء شکر میں جائےاور یہ دعا پڑھے ،؛اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ الْأَوْصِيَاءِ الْمَرْضِيِّينَ وَ عَلَى جَمِيعِ أَنْبِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ وَ بَارِكْ عَلَيْهِمْ بِأَفْضَلِ بَرَكَاتِكَ وَ صَلِّ عَلَى أَرْوَاحِهِمْ وَ أَجْسَادِهِمْ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ لَنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا الَّذِي فَضَّلْتَهُ وَ كَرَّمْتَهُ وَ شَرَّفْتَهُ وَ عَظَّمْتَ خَطَرَهُ اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِيمَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ حَتَّى لا أَشْكُرَ أَحَدا غَيْرَكَ وَ وَسِّعْ عَلَيَّ فِي رِزْقِي يَا ذَا الْجَلالِ وَ الْإِكْرَامِ اللَّهُمَّ مَا غَابَ عَنِّي فَلا يَغِيبَنَّ عَنِّي عَوْنُكَ وَ حِفْظُكَ وَ مَا فَقَدْتُ مِنْ شَيْءٍ فَلا تُفْقِدْنِي عَوْنَكَ عَلَيْهِ حَتَّى لا أَتَكَلَّفَ مَا لا أَحْتَاجُ إِلَيْهِ يَا ذَا الْجَلالِ وَ الْإِكْرَامِ۔پس نوروز کی آئمہ معصومین نے تائید کی ہے؟جی ہاں ! تائید کی ہے اور اس کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے ۔تحویل سال کی مشہور دعا کیا ہے ؟ کیا وہ بھی مستند ہے ؟غیر مشہور کتابوں میں آیا ہے کہ تحویل سال کے وقت یہ دعا بہت زیادہ پڑھے؛ «يَا مُحَوِّلَ الْحَوْلِ وَ الْأَحْوَالِ حَوِّلْ حَالَنَا إِلَى أَحْسَنِ الْحَالِ ،اور ایک اور روایت میں ہے ، يَا مقلبالقلوب وَ الْأَبْصَارِ يَا مُدَبِّرَ اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ يَا مُحَوِّلَ».؛ بعض اقوال میں آیا ہے کہ اس دعا کو ۳۳۶ مرتبہ پڑھے ۔ اس دعا کے باب میں بعض نے کہا ہے ؛ جب ایسا کرو گے تو تمہارے ۵۰ سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اس روز بہت زیادہ پڑھو؛ "يَا ذَا الْجَلالِ وَ الْإِكْرَامِ".جو کچھ آپ نے پڑھا یہ "زاد المعاد"میں مرحوم مجلسی کی عبارت ہے ۔ اس روز کے عظیم ہونے میں اتنا ہی کافی ہے کہ دعاووں کی کتابوں میں اس کا ذکر ہے اور نوروز کی عظمت اور اس کے افتخار میں یہی کافی ہے کہ نوروز کے آداب و اعمال کو مرحوم مجلسی نے اپنے قلم مبارک سے لکھا ہے ۔آیا فقہی اعتبار سے تحویل سال کی دعا کو ثابت کیا جا سکتا ہے؟فقہ و اصول میں ایک باب ہے جس کا عنوان ہے ،تسامح در ادلہء سنن، فقہاء بہت پہلے سے اس سے سرو کار رکھتے رہے ہیں اور ان کی سند بھی مشہور روایات ہیں ؛«مَنْ بَلَغَهُ عَنِ النَّبِيِّ ص شَيْءٌ فِيهِ الثَّوَابُ فَفَعَلَ ذَلِكَ طَلَبَ قَوْلِ النَّبِيِّ ص كَانَ لَهُ ذَلِكَ الثَّوَابُ وَ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ ص لَمْ يَقُلْه (۳)روایات سے مراد یہ ہے کہ روایات میں کچھ آداب اور برنامے ایسے ہیں کہ جو واجبات میں شمار نہیں ہوتے اگر تم تک کوئی ایسی روایت پہونچے جو کسی سنت کی پابندی کا دستور دے تو اس کو انجام دو چاہے پیغمبر اور اہل بیت ع نے نہ کہا ہو ۔اگر کسی فرد سے کہیں کہ فلاں نیک عمل خدا وند متعال کے نزدیک فضیلت اور ثواب رکھتا ہے اور وہ بھی اس کو اس فضیلت کے حصول کی خاطر انجام دے تو ذات اقدس الہی وہ ثواب اس کو دے گی چاہے حقیقت میں وہ امر ایسا نہ ہو ۔اس بنا پر اس روایت اور فقہاء کے اقوال کے اعتبار سے جو دعائیں تحویل سال کے وقت پڑھی جاتی ہیں چاہے وہ معتبر سند نہ بھی رکھتی ہوں تب بھی وہ تائید شدہ ہیں ۔خود معصومین ع نے بھی فرمایا ہے کہ ان مسائل میں سند کے پیچھے نہ جائیں اور اگر سند ضعیف بھی ہو تب آپ عمل کریں آپ کو ثواب دیا جائے گا ۔کیا قدیم علماء اس نوروز اور اس کے اعمال پر اعتقاد رکھتے تھے؟مرحوم آقا میرزا ابو الفضل زاھدی قمی حوزویوں اور افاضل کے نزدیک مشہور ہیں اور امام راحل اور دوسرے مراجع بھی ان کو کافی اہمیت دیتے تھے ۔ مرحوم آقائے زاھدی پابندی کے ساتھ تحویل سال کے موقعے پر سال کے دنوں کے عدد کے برابر اس دعا کو پڑھا کرتے تھے ۔بعض نے روایت کی ہے کہ دعائے یا مقلب القلوب کے علاوہ اس دعا کو بھی نوروز کے دن سال کے دنوں کے برابر پڑھیں ؛«اللَّهُمَّ هَذِهِ سَنَةٌ جَدِيدَةٌ وَ أَنْتَ مَلِكٌ قَدِيمٌ أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَ خَيْرَ مَا فِيهَا وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَ شَرِّ مَا فِيهَا وَ أَسْتَكْفِيكَ مَؤُنَتَهَا وَ شُغْلَهَا يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْإِكْرَامِ (۴)ہم کس طرح سے اپنی عید کو اہل بیت والی عید بنا سکتے ہیں ؟دعائیں جن کو ہم نے ذکر کیا ہے ان کے ذریعے عید نوروز اور خاندان عترت کے درمیان رابطہ برقرار کیا جا سکتا ہے ، اس طرح عید نوروز مقدس اور مبارک ہو جائے گی جیسا کہ ذکر ہوا ہے؛ "بارک لنا فی یومنا هذا"؛ہمارے لیے مبارک بنا دے "الذی فضلته"، اس دن کو جسے تو نے فضیلت دی ہے ،"کرمته" بزرگی دی ہے ،"شرفته" شرافت دی ہے ۔ہماری سوچ عید نوروز کے بارے میں کیسی ہونی چاہیے؟نوروز کے سلسلے میں کچھ لوگ افراطی اور کچھ تفریطی ہیں جو دونوں غلط ہیں بعض نوروز کے خلاف ہیں اور بعض اس رسم کو آسمانی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور یہ دونوں کجروی کا شکار ہیں ۔لوگوں کے درمیان غلط رسمیں بہت زیادہ ہیں لیکن صحیح اور منطقی رسمیں بھی ہیں ہمیں چاہیے کہ مثبت پہلووں کو اجاگر کریں اور ان کی تشویق کریں جب کہ ان کے مقابلے میں منفی پہلووں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں ۔انہی دعاوں سے کہ جنہیں مرحوم مجلسی نے نوروز کے باب میں نقل کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس دن کو احترام کی نگاہ سے دیکھیں لیکن ہمیں یاد رہے کہ ہم مسلمان اور آئمہ ع کے معتقد ہیں ۔ پس جس طرح مسائل پر ہماری نگاہ ایمانی ہے اسی طرح نوروز کو بھی ہمیں ایمان کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔احسن الحال کا کیا مطلب ہے؟اس دعا میں بہت سارے درس پائے جاتے ہیں ۔تحویل سال کی دعاکے ایک اقتباس میں لکھا ہے : «يَا مُحَوِّلَ الْحَوْلِ وَ الْأَحْوَالِ حَوِّلْ حَالَنَا إِلَى أَحْسَنِ الْحَالِ».،؛ہم اپنے خدا سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بہترین حال کی جانب پلٹا دے۔یہ بہترین حالت کیسی حالت ہے؟وہی حالت ہے کہ جس کے بارے میں امیر المومنین ع فرماتے ہیں :جس دن بھی آپ گناہ نہ کریں وہ آپ کے لیے عید ہے۔پس آپ کے بقول احسن الحال وہ حالت ہے کہ جو گناہ نہ کرنے کے وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔فقہاء کی نظر میں سب سے اچھی حالت کیسی حالت ہے ؟اگر کسی فقیہ سے پوچھیں کہ محول الحال کیا ہے؟تو وہ اپنی فقاہت کے تقاضے کے مطابق کہے گا انسان کے لیے سب سے اچھی حالت یہ ہے کہ اس کے تمام افعال شریعت کے دستور کے مطابق ہوں اس لیے کہ فقہ کا مطلب یہ ہے کہ بندے کا ہر فعل وعمل حکم کے تحت ہو۔فقیہ کہتا ہے ؛ اس دنیا میں جب آپ مکلف ہوتے ہیں تو جو حرکت اور کام بھی آپ کریں، چھوٹا ہو یا بڑا، انفرادی ہو یا اجتماعی ،ظاہری ہو یا باطنی، یہ سب حکم کے تحت ہیں لھذا ایک فقیہ کی نظر میں احسن الحال یعنی انسان اس مرتبے تک پہونچ جائے کہ اس کے تمام اعمال حکم الہی کے مطابق ہوں ۔علمائے کلام احسن الحال کے کیا معنی
27 مارچ 2014 - 19:30
News ID: 514960
نوروز کے سلسلے میں کچھ لوگ افراطی اور کچھ تفریطی ہیں جو دونوں غلط ہیں بعض نوروز کے خلاف ہیں اور بعض اس رسم کو آسمانی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور یہ دونوں کجروی کا شکار ہیں ۔لوگوں کے درمیان غلط رسمیں بہت زیادہ ہیں لیکن صحیح اور منطقی رسمیں بھی ہیں ہمیں چاہیے کہ مثبت پہلووں کو اجاگر کریں اور ان کی تشویق کریں جب کہ ان کے مقابلے میں منفی پہلووں کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کریں ۔