12 مارچ 2014 - 20:30

اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل نے شام کي صورتحال کو انتہائي تشويشناک قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کو دنيا کے عظيم ترين سيکورٹي اور انساني الميے کا سامنا ہے-

ابنا: بان کي مون  کے جاري کردہ  بيان ميں جو ان کے ترجمان نے پڑھ کر سنايا يہ بات زور ديکر کہي گئي ہے کہ بحران   شام کے حل ميں عالمي برادري کي ناتواني کي وجہ سے  شام کا معاملہ شدت اختيار کرگيا ہے اور روزانہ سيکڑوں لوگ لقمہ اجل بن رہے ہيں-اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ شام  ميں جاري جھڑپوں کي وجہ سے اب تک ايک لاکھ تيس ہزار سے زيادہ لوگ مارے جاچکے ہيں جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے - انہوں نے شام ميں دہشتگرد گروہوں کے لئے اسلحہ کي سپلائي کي جانب کوئي اشارہ کئے بغير کہا کہ شام ميں  اسلحہ کي ترسيل کي وجہ سے بدامني کا دائرہ مسلسل پھيلتا جارہا ہے-بان کي مون نے کہا کہ  بحران شام نے اس ملک کے ثقافتي ورثے کو بھي ناقابل تلافي نقصان پہنچايا ہے- انہوں نے عالمي برادري کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بحران سے ہرگز منہ نہيں موڑ سکتے-انہوں نے حکومت شام اور مخالفين دونوں سے اپيل کي کہ وہ اپني انساني اور تاريخي ذمہ داريوں کا پاس رکھتے ہوئے موجودہ بحران کو حل کرنے کے لئے لچک  کا مظاہرہ کريں-......./169