ابنا: پرس ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے معروف امریکی تجزیہ نگار جارڈن ڈف نے کہا کہ امریکہ نے انسان دوستانہ آپریشن کی آڑ میں اردن کی سرزمین پر اپنی فوجی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط کرکے وہاں اپنی جنگی کمانڈ تیار کررہا ہے اور اس کی وجہ صرف شام ہی نہیں بلکہ لبنان میں پیدا کئے گئے حالات بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی کردار کو بڑھانے کی کوشش اس لئے کرہا ہے کہ کیونکہ صہیونی حکومت لبنان میں ایک بار پھر حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔فروری کے آوائل میں اردن کی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی تھی شامی دہشتگردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کیلئے اردن کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی طیارہ سامان لے کر اُترا۔رپورٹوں میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا تھا کہ اردن میں 1500 دہشتگردوں نے تربیتی کورس مکمل کیا ہے جو شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف لڑنے کیلئے تیار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
23 فروری 2014 - 20:30
News ID: 508611
ایک امریکی تجزیہ نگا رکے مطابق امریکہ لبنان اور شام کے موجودہ حالات کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی غرض سے اردن کی سرزمین پراپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کی کوشش کرہاہے۔