15 فروری 2014 - 20:30
ملائشیاء میں ایران کے تعاون سے انتہا پسندی کے خلاف سیمینار

ملائشیاء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کے تعاون سے انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں دانشوروں نے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف صدر ڈاکٹر روحانی کی تجاویز پر اظہار خیال کیا۔

ابنا: ملائشیاء میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچر ہاؤس کے تعاون سے انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں دانشوروں نے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف صدر ڈاکٹر روحانی کی تجاویز پر اظہار خیال کیا۔ کوالا لامپور میں یہ سیمینار گذشتہ روز منعقد ہوا۔ شرکائے سیمینار نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف اقوام متحدہ میں اپنی یہ کوششیں جاری رکھیں۔ اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملائشیاء اسٹراٹیجیک اسٹڈیز سینٹر کے رکن نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی جانب سے پیش کی گئي تجویزیں ایک ایسا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں جن کے سہارے بڑے موثر اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ملائشیاء کی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر فیصل بن حسن نے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی تجویزوں کو ایران کےلئے کامیابی قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ تہذیب و ثقافت کے سہارے تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ایران اس سلسلے میں موثر اقدامات کرسکتا ہے۔ اس سیمینار سے ملائشیاء کی نہضۃ العلماء کے سربراہ عبدالغنی شمس الدین نے کہا کہ صہیونی ریاست کے قبضے سے فلسطین کی آزادی کی راہ، صہیونی ریاست کے تشدد اور انتہا پسندی کے خاتمے سے گذرتی ہے۔ اس سیمینار سے کوالالامپور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل کونسلر نے بھی خطاب کیا۔ واضح رہے صدر جناب حسن روحانی نے گذشتہ برس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں انتہا پسندی اور تشدد کے خاتمے اور دنیا کو ان لعنتوں سے پاک کرنے کے لئے کچھ تجویزیں پیش کی تھیں جنھیں جنرل اسمبلی نے قرارداد کی صورت دیدی ہے۔

.......

/169