ابنا: بارڈ ویگار سولجل اور نور والین نے کہا کہ وہ اسنوڈن کی طرف سے افشا کی جانے والی تمام اہم معلومات سے صرف نظر نہیں کرسکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر قائل ہیں اسنوڈن نے ایک بحث کو جنم دیا اور اس سے مختلف ممالک کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی ہوئی۔ ان تبدیلیوں نے دنیا کو اور زیادہ مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسنوڈن نے گزشتہ سال ایسی دستاویزات افشا کی تھیں جن کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی انسداد دہشت گردی کے بہانے امریکی اور دنیا بھر کے شہریوں اور متعدد غیر ملکی رہنمائوں کی ٹیلی فون کالز اور انٹرنیٹ سرگرمیوں کی نگرانی کرتی رہی ہے۔ امن کے نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں ایک ہفتہ تک جمع کروائی جاسکتی ہیں۔ اس انعام کی کمیٹی ان نامزدگیوں کو خفیہ رکھتی ہے۔ یہ انعام اکتوبر میں دیا جائے گا۔
گزشتہ سال امن کا نوبل انعام کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کام کرنے والی تنظیم "آرگنائزیشن فار دی پروہیبیشن آف کیمیکل ویپنز" کو دیا گیا تھا۔
.......
/169