29 جنوری 2014 - 20:30
القاعدہ کی جڑیں اب بھی پاکستان میں ہیں

امریکی جاسوسی اداروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کی نظریاتی بنیاد اب بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے لیکن اس کے لیے عملی کارروائیاں کم از کم پانچ مختلف تنظیمیں کر رہی ہیں۔ امریکی جاسوسی اداروں کے مطابق، القاعدہ کا خطرہ ابھی کم نہیں ہواہے۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق، القاعدہ کی نظریاتی بنیاد اب بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہے لیکن اس کی عملی کارروائی پانچ مختلف تنظیموں کے ہاتھوں میں ہے اور یہ تنظیمیں 12 ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

شام میں موجود القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم النصرہ فرنٹ کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر جیمز كلیپر کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے شام میں ایک نئی فورس تیار ہو رہی ہو، اس میں غیر ملکی جنگجو شامل ہو رہے ہیں جو خطرناک ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ القاعدہ شام میں واقع دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپوں میں ایسے لوگوں کو تربیت دے رہا ہے جو پچاس مختلف مملک سے آئے ہیں جن میں یورپ بھی شامل ہے۔

امریکہ کی یہ خفیہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے کہ جب گزشتہ تین برس سے امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک شام میں حکومت مخالف عسکری پسند تنظیموں کو مہلک ترین ہتھیار فراہم کرا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، شام میں جاری بحران میں اب تک سوا لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

.......

/169