25 جنوری 2014 - 20:30
کویت میں وحدت اسلامی کے عنوان سے عظیم الشان جشن کا انعقاد+تصاویر

رسول اللہ نے امیوں کو امت بنایا۔مقصد ایک کردیا انکا راستہ بھی ایک کردیا انکا اور مکتب بھی ایک کردیا یہ تین چیزیں جب ایک ہوجائیں تو ان سے جو اتحاد پیدا ہوتا ہے قرآن اسے امت کہتا ہے۔لیکن اگر مقصد کے علاوہ مفاد پر لوگ ایک ہوجائیں۔راستے کے علاوہ کسی جھانسے میں لوگ ایک ہوجائیں۔اور مکتب کے علاوہ کسی خود ساختہ معیار پر ایک ہوجائیں یہ وحدت دینی نہیں وحدت الہی نہیں بلکہ وحدت احزابی ہے۔( علامہ جواد نقوی)

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کے مطابق کویت کے علاقے الداعیہ میں 25 جنوری بروز ہفتہ اس ملک میں مقیم  پاکستانی شیعہ کمیونٹی۔ پیروان ولایت۔ کیجانب سے ’’وحدت اسلامی‘‘ کے عنوان سے جشن عید میلادالنبی (ص) و امام جعفر صادقؑ کا انعقاد کیا گیا۔ وحدت اسلامی کے عنوان سے یہ عظیم الشان اجتماع حسینیہ نجف الاشرف۔الداعیہ میں منعقد ہوا، جس میں بڑی تعداد میں ہند و پاک کے یہاں مقیم اہل تشیع اور اہل تسنن حضرات نے شرکت کر کے اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کیا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں اہل سنت و شیعہ برادران نے نعت خوانی و منقبت خوانی کر کے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا جبکہ پروگرام کے دوسرے حصے میں پاکسان کے نامور عالم دین علامہ سید جواد نقوی کی انقلاب نبوی و انقلاب عقبی کے عنوان سے جھنگ پاکستان میں 17 ربیع الاول کو کیئے گئے خطاب کو بذریعہ ملٹی میڈیا پیش کیا۔ جس میں موصوف نے سورہ آل عمران کی آیت ۱۴۴ کے روشنی میں حقیقی وحدت اور وحدت الہی کے مفہوم سے آشنا کرایا۔ اختتام خطاب پر حسن اختتام کیلئے ظاہری طور ہر اتحاد بین المسلمین کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے حاضرین حضرات اہل سنت و اہل تشیع نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر لبیک یا رسول اللہ اور لبیک یا حبیب اللہ کے فلک شگاف نعروں سے محفل کا اختتام کیا۔ حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید جواد نقوی کے خطاب کا مختصر خلاصہسورہ آل عمران آیہ ۱۴۴ میں اللہ تعالی کا سوال ہے تمام ان لوگوں سے جو رسول اللہ ص کے بعد موجود ہیں اور یہ سوال ہر دور میں رہنے والے ہر طبقے سے قرآن پوچھ رہا ہے اور جب تک ہم جواب نہ دے سکیں اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے ۔سوال یہ ہے کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ حضرت محمد (ص) اللہ کے رسول ہیں اور یہ بھی دیگر رسولوں کیطرح  آئے ہیں اور یہ بھی گزر جائینگے ۔یہ رسول اگر وفات پاجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم پلٹ جائو گے اپنی پچھلی عقبی حالت پر اسی حالت پر جس سے رسول اللہ(ص) نے تمہیں نکالا تھا یعنی امیت(جاہلیت) میں واپس  چلے جائوگے امت کا پیکر توڑ دوگے اور ہدایت کو چھوڑ دوگے اور دوبارہ اسی ذلالت کی طرف چلے جائوگے۔قرآن سوال کررہا ہے ہر ایک اس شخص سے جو رسول اللہ کے بعد آرہا ہےکہ بتائو کیا کرنا ہے رسول اللہ کے بعد انقلاب عقبی کرکے واپس ذلالت کیطرف پلٹنا ہے یا انقلاب نبوی(ص) کرکے ہدایت کے راستے پر آگے بڑھنا ہے۔ اگر انقلاب نبوی لیکر آگے بڑھنا ہے تو پھر آج ساری دنیا پر نبی(ص) کا نظام ہونا چاہیئے۔کہیں ابوجہل و ابولہب نظر نہ آئے کسی جگہ بھی جہالت نظر نہ آئے۔ راہ نبی(ص) پر وہ نہیں جو فقط عقیدت و محبت رکھتا ہے راہ نبی(ص) پر وہ ہے جو نظام نبی(ص) بھی رکھتا ہے۔جو ذلالت کے نظام میں رہ کر نعتٰیں و عقیدت پڑھ رہا ہو اختیار سارا ذلالت کے پاس ہو وہ راہ نبی(ص) پر نہیں ہے۔ وہ انقلاب عقبی میں ہے۔ علامہ سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ راہ حسین ابن علی ؑ بھی یہی ہے کہ پہلے میدان ہموار کرو ذلالت کو ختم کرو اس کے بعد عبادت کرو یہ عبادت تمہیں اللہ تک پہنچائے گی۔ انہوں نے وحدت کے حوالے اپنے خطاب میں فرمایا کہ آج سرزمیں پاکستان کے اندر بصیرت و بیداری اور آگاہی و شعور کی ضرورت ہے۔عزیزاں وحدت رکن انقلاب نبوی ہے۔نہ کے وہ وحدت جو کہ مفادات کی خاطر سیاسی بنیادوں پر احزابی وحدت ہو جیسا کہ جنگ احزاب میں ہوا تھا۔دین یہ نہیں کہتا کہ اسطرح کی وحدت کرو ۔سیاسی پارٹیوں کی وحدت، سیاسی جھانسوں کی وحدت، نہ بلکہ وہ وحدت ہو جس کیطرف قرآن اشارہ کر رہا ہے کہ واعتصمو بحبل اللہ ۔۔۔کہ اللہ کی رسی کو تھام کر متحد ہو جائو، اقتدار کی کرسی تمہیں ایک نہیں کرسکتی۔ اللہ کی رسی تمہیں ایک کرسکتی ہے۔اللہ کی رسی یعنی اللہ کا دین۔اللہ کی رسی یعنی توحید ۔اللہ کی رسی یعنی لاالہ االا اللہ۔ اللہ کی رسی یعنی رسالت رسول اللہ۔ اللہ کی رسی یعنی اہل بیت رسول(ع)، اللہ کی رسی یعنی سنت رسول اللہ(ص) ۔اللہ کی یہ رسی ہے، اس رسی کو تھام لو۔تفرقہ انقلاب عقبی ہے آج ملت تفرقوں اور ذلالت میں اس لیے گھر گئی کیونکہ تفرقے کے اماموں نے کامیابی کیساتھ ملت کو تقسیم کر دیا، تفرقہ ڈال دیا۔اختلافات کو ہوا دی اور اختلافات کو فتنہ بنایا۔وحدت، عقیدے کی وحدت، نظریے کی وحدت۔عمل کی وحدت۔ایمان کی وحدت۔اللہ کی خاطر وحدت۔راستے کی وحدت۔مقصد کی وحدت۔مسلک کی وحدت۔مسلک سے مراد فرقے نہیں ہے۔مسلک سے مراد رسول اللہ کا طریقہ، مکتب کی وحدت۔رسول اللہ نے امیوں کو امت بنایا۔مقصد ایک کردیا انکا راستہ بھی ایک کردیا انکا اور مکتب بھی ایک کردیا یہ تین چیزیں جب ایک ہوجائیں تو ان سے جو اتحاد پیدا ہوتا ہے قرآن اسے امت کہتا ہے۔لیکن اگر مقصد کے علاوہ مفاد پر لوگ ایک ہوجائیں۔راستے کے علاوہ کسی جھانسے میں لوگ ایک ہوجائیں۔اور مکتب کے علاوہ کسی خود ساختہ معیار پر ایک ہوجائیں یہ وحدت دینی نہیں وحدت الہی نہیں بلکہ وحدت احزابی ہے۔ وحدت الہی کا مطلب یہ ہے کہ مقصد تمہارا خدا ہوجائے وحدت الہی کا مطلب راستہ تمہارا الہی ہوجائے۔اور وحدت دینی، مکتب تمہارا دینی ہوجائے۔نظام تمہارا الہی ہوجائے۔یہ وہ وحدت ہے جو مومنین کو امت بنا سکتی ہے۔....................۲۴۲