ابنا: انٹرویو میں مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاکہ پاکستان کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا گیا، ساری دنیا جانتی ہے پاکستان کو جنگ میں جھونکا گیا، بچے، بزرگ، خواتین، مساجد، امام بارگاہ، اسکول، مزارات سمیت کوئی محفوظ نہیں، مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ایک نکتے پر متفق ہونا ہوگا۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ میرے اختیار میں ہو تو دہشت گردی کرنے والوں پر گولیاں چلاوٴں گا اور بم پھینکوں گا، حکمرانوں نے مذاکرات میں تاخیر کر کے صورتحال مزید بگاڑ دی۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ پہلے بھی دہشت گردی کے شکار متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوئے، آج بھی ہیں، پاکستان میں انسانیت کا خون ہورہا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے، بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث لوگوں کیخلاف کارروائی نہ کرنا حکومت کی ناکامی ہے۔جاوید ہاشمی نے کہا کہ جو آئین کو نہیں مانتا ہم اسے نہیں مانتے، اپنے ملک کو ٹھیک کرنا ہماری ذمہ داری ہے، گولی کسی مسئلے کا حل نہیں، جو یہ سوچتا ہے کہ گولی اور بم سے مسائل کا حل نکالے وہ خوابوں کی دنیا میں رہتا ہے، ہمیں جیو اور جینے دو کا رویہ اختیار کرنا ہوگا، اختلاف رائے رکھنے والوں کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔
.......
/169