22 جنوری 2014 - 20:30
شام مین تین سالوں کے دوران تین ہزار سے زائد سعودی دہشتگرد ہلاک

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبد االعزیز انٹلیجنس چیف بندر بن سلطان سے کافی ناراض ہے جس کی وجہ شام مین بندر بن سلطان کی ناکامی اور اس ملک میں مارے گئے سعودی دہشتگرد کو بتایا جارہاہے۔

ابنا: سعودی عرب کے شاہ عبداللہ بن عبد االعزیز انٹلیجنس چیف بندر بن سلطان سے کافی ناراض ہے جس کی وجہ شام مین بندر بن سلطان کی ناکامی اور اس ملک میں مارے گئے سعودی دہشتگرد کو بتایا جارہاہے۔ باخبرذرائع نے بتایا کہ سعودی شاہ کا غصہ بندر بن سلطان کے تئیں اس وقت بڑ گیا جب انہیں وزیر داخلہ نے اطلاع دی کہ شامی تنازعے میں تین سالوں کے دوران تین ہزار سے زائد سعودی دہشتگرد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس سعودی ذرائع کے مطابق رپورٹ سننے کے بعد سعودی شاہ نے بندربن سلطان کو طلب کرکے سخت لہجے میں ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ابتدأ سے ہی یہ یقین تھا کہ تم علاقائی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہو اور شام میں سعودی باشندوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت ناقابل قبول ہے۔ گذشتہ رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب نے بندر بن سلطان کی قیادت میں 2011 سے 20 سے 30 ہزار دہشتگرد شام بھیجے ہیں سعودی ذرائع کے مطابق بندر بن سلطان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے سامنے شام میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ پیر کے روز امریکی سفیر برائے شام رابٔرٹ فورڈ نے شام کی غیر ملکی حمایت یافتہ حزب اختلاف کو جینوا کانفرنس میں شرکت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شام سے متعلق سعودی عرب کی پالسیوں میں تبدیلیاں رونما ہونے والی ہے۔

.......

/169