اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمی مظاہری نے ۹ ریبع الاول کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک عالم دین امام زمانہ(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ’’علوم غریبہ‘‘ کی تعلیم کی درخواست کی جبکہ وہ جانتے تھے کہ ان علوم کا حاصل کرنا حرام ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم علوم غریبہ کو جان کر کیا کروں گے میں تمہیں ایسا نسخہ بتاتا ہوں جو ان علوم سے بہتر ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ پانچ شخصیتوں سے توسل حاصل کیا کرو اور کہا کرو «یا محمّد یا علی یا فاطمه یا حسن یا حسین، یا صاحب الزمان ادرکنی و لا تهلکنی».انہوں نے مزید کہا کہ ان عالم دین نے نقل کیا کہ جب حضرت(ع) نے فرمایا: ادرکنی تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ کیوں امام نے ادرکونی نہیں کہا یعنی جب چھے ذوات کے نام لیے ہیں تو ان کے لیے جمع کا صیغہ ہونا چاہیے تھا جبکہ امام نے مفرد کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ میرے ذہن میں یہ بات آنا تھی کہ امام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میں نے اس لیے یہ کہا چونکہ اس وقت کائنات میں واسطہ فیض صرف میں ہوں۔آیت اللہ مظاہری نے مزید بیان کیا کہ اگر ہم پیغمبر اکرم (ص) یا کسی امام سے توسل کرتے ہیں تو جو ہمیں ملتا ہے وہ امام زمانہ (عج) کے ذریعے ملتا ہے۔انہوں نے آخر میں یہ کہا کہ یہ دعا اور توسل اگر چہ مختصر ہے لیکن حاجت کے حصول کے لیے بہت موثر اور مجرب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
10 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 495056
آیت اللہ مظاہری نے بیان کیا کہ اگر ہم پیغمبر اکرم (ص) یا کسی امام سے توسل کرتے ہیں تو جو ہمیں ملتا ہے وہ صرف امام زمانہ (عج) کے ذریعے ملتا ہے۔