15 ستمبر 2026 - 18:38
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی راہداریوں میں میناب کے بچوں کی پینٹنگز کی نمائش

میناب کے بچوں کی پینٹنگز پر مشتمل نمائش ’’بچے اب بھی سورج بناتے ہیں‘‘ منگل سے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں شروع ہوگئی۔ یہ نمائش ایران کے مستقل مشن کی جانب سے منعقد کی گئی ہے اور اس میں ایران پر امریکی و صیہونی حملوں سے متاثر ہونے والے معصوم بچوں کی تخلیقات پیش کی گئی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، میناب کے بچوں کی پینٹنگز کی نمائش ’’بچے اب بھی سورج بناتے ہیں‘‘ ایران کے مستقل مشن برائے جنیوا کے تعاون سے منگل سے اقوام متحدہ کے دفتر میں شروع ہوگئی ہے۔

یہ نمائش ایک ہفتے تک جاری رہے گی اور اس میں ایران پر امریکہ اور صیہونی ریاست کے حملوں کے دوران معصوم ایرانی بچوں پر گزرنے والی صورتحال کو پیش کیا گیا ہے۔ ان بچوں کی سادہ اور رنگین دنیا اچانک میزائل حملوں سے تباہی کا منظر بن گئی۔

نمائش میں زیادہ تر پینٹنگز میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے بچوں کی ہیں، جو امریکی حملوں کے دوران شہید یا زخمی ہوئے۔ ان میں سے بعض فن پارے براہ راست اسکول کے ملبے سے نکالے گئے ہیں۔ آج یہی پینٹنگز جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں بین الاقوامی زائرین اور دیگر لوگوں کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔

یہ نمائش ’’حملوں سے تعلیم کے تحفظ کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقد کی گئی ہے۔ بچوں کی سادہ اور براہ راست زبان میں بنائی گئی یہ پینٹنگز جنگ اور تشدد کے بچوں پر مرتب ہونے والے اثرات، اسکولوں کے تحفظ اور بچوں کے تعلیم کے حق کی اہمیت کی جانب توجہ دلاتی ہیں۔

نمائش کے تعارف میں کہا گیا ہے کہ بچے کے لیے اسکول محض ایک عمارت نہیں ہوتا بلکہ وہ جگہ ہے جہاں خواب جنم لیتے ہیں، دوستیاں بنتی ہیں اور مستقبل اپنے پہلے قدم اٹھاتا ہے۔

نمائش کا نام بھی انہی سادہ مگر گہرے مفہوم رکھنے والی تصاویر سے لیا گیا ہے۔ مظلوم ایرانی بچوں کی یاد ان کی رنگین اور بچوں جیسی خوبصورت تخلیقات میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور تاریخ ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha