8 جنوری 2014 - 20:30
شیعہ، امام حسن عسکری علیہ السلام کی نظر میں- 1

امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ تشیع کی تنہائی اور غربت کا زمانہ تھا اور آپ (ع) نے اپنے بعد امام آخر الزمان کے زمانے کے لئے بھی ہدایات دی ہیں جو آج غیبت کے زمانے میں بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہوسکتی ہیں اور ہماری کئی غلط فہمیوں کو دور کرسکتی ہیں۔

1۔ شیعہ کی پانچ نشانیاں

شیخ طوسی کی روایت کے مطابق، امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا:"علامات المؤمن خمس: صلاة احدى وخمسين، وزيارة الاربعين، والتختم باليمين (او في اليمين) و تعفير الجبين، والجهر ببسم الله الرحمن الرحيم"۔شیعہ کی پانچ علامتیں ہیں: 1۔ روزانہ 51 رکعت نماز ادا کرتا ہے (17 واجب اور 34 مستحب)، 2۔ زیارت اربعین پڑھنا، 3۔ داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننا، 4۔ مٹی پر سجدہ کرنا، 5۔ نماز میں بسم اللہ کو بآواز بلند پڑھنا۔(سيدبن طاووس اقبال الاعمال ج 3 ص 100) علامه مجلسي بحارالانوار ج 85 ص 75 و ج 98 ص 348)۔2۔ شیعہ شفقت، منکسرالمزاجی اور برادران کے حقوق کا لحاظامام حسن عسکري عليہ ‌السلام فرمایا:"أعْرَفُ النّاسِ بِحُقُوقِ إخْوانِهِ، وَأشَدُّهُمْ قَضاءً لَها، أعْظَمُهُمْ عِنْدَاللهِ شَأناً اللهِ و من تواضع في الدنيا لاخوانه فهو عندالله من الصديقين و من شيعة علي بن ابي طالب عليه السلام حقاً". جو شخص اپنے بھائیوں کے حقوق کی سب سے زیادہ معرفت رکھتا ہے اور ان حقوق کو ادا کرنے میں سب سے زیادہ کوشاں ہے وہ شان و منزلت کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک سب سے بڑا اور عظیم ہے اور اس کا درجہ اور رتبہ سب سے اونچا ہے؛ اور جو بھی دنیا میں اپنے بھائیوں کی نسبت سب سے زیادہ تواضع اور خاکساری کا مظاہرہ کرے گا وہ اللہ کی بارگاہ میں صدیقین میں سے ہے اور علی بن ابیطالب علیہ السلام کے حقیقی شیعوں میں سے ہے۔واضح رہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حقیقی شیعہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسن و حسین علیہما السلام اور سلمان، ابوذر، مقداد، عمار اور محمد بنی ابی بکر اور مالک اشتر تھے۔ جنھوں نے ولایت کی پیروی کا حق ادا کرتے ہوئے کبھی بھی اپنے ولی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے شک و تردد سے کام نہیں لیا اور کبھی بھی اپنی رائے ولی امر کی رائے پر مقدم نہیں رکھی بلکہ کبھی بھی ولی اللہ علیہ السلام کے سامنے اپنی رائے ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کی جبکہ ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ حتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم جاری ہونے کے باوجود اپنی رائے کا اظہار ہی نہیں بلکہ رسول اللہ (ص) کے حکم کی اعلانیہ مخالفت تک کیا کرتے تھے! اور یہ ولایت پذیری کے بالکل خلاف ہے حالانکہ رسول اللہ (ص) تمام مسلمانوں پر ولایت رکھتے تھے۔3۔ شیعہ مہمان کا احترام کرتا ہےشیعیان محمد و آل محمد (ص) کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت مہمام کا اکرام و تعظیم ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں: دو دینی برادران (باپ اور بیٹا) امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گھر میں مہمان ہوئے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اٹھ کر مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی تکریم فرمائی اور انہیں صدرِ مجلس میں بٹھایا اور خود بھی ان کے بیچ میں تشریف فرما ہوئے اور کھانا لانے کا حکم دیا اور ان دونوں نے کھانا کھالیا۔ قنبر ایک برتن میں پانی لائے اور ایک خالی برتن نیز تولیہ ساتھ لائے اور خالی برتن مہمان کے سامنے رکھا تا کہ مہمان ہاتھ بڑھا دیں اور قنبر ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالیں۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اٹھ کر پانی کا برتن قنبر سے لے لیا تا کہ مہمان کے ہاتھ خود دھلا دیں۔ مہمان نے اپنے آپ کو خاک پر گرادیا اور عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! خدا مجھے دیکھ رہا ہے کہ آپ میرے ہاتھوں پر پانی ڈالنا چاہتے ہیں!امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اور اپنے ہاتھ دھولو، خداوند متعال تمہیں بھی دیکھتا ہے اور تمہارے بھائی کو بھی دیکھتا ہے جو بالکل تمہاری مانند ہے اور تم میں اور تمہارے بھائی میں کوئی فرق نہیں ہے  اور تمہارا یہ بھائی اپنے آپ کو تم سے بہتر نہیں سمجھتا بلکہ تمہاری خدمت کرتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ جنت میں اس کے خدمتگذاروں کی تعداد دنیا کے لوگوں کی پوری تعداد سے بھی دس گنا زیادہ ہو۔ وہ آدمی بیٹھ گیا۔[نکتہ: مہمان کی خدمت کرو گے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ تم جنتی ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ جنت میں اللہ تعالی اس کو لاکھوں خدمتگذاروں سے بہرہ مند فرمائے گا]۔فرمایا: تجھے اس خدا کی قسم دیتا ہوں میرے اس حق عظیم کے صدقے، جس کو تم نے پہچان لیا ہے اور اس کی تکریم کی ہے، اور اللہ کے سامنے تیرے خضوع و انکسار کے صدقے، کہ اس نے مجھے خدمت مہمان کی دعوت دی ہے اور اس کے ذریعے تم کو شرف بخشا ہے کہ میں تمہاری خدمت کروں، اپنے ہاتھ پورے سکون و اطمینان کے ساتھ دھولو بالکل اسی طرح کہ اگر قنبر تمہارے ہاتھوں پر پانی ڈالتا، اور تم سکون کے ساتھ ہاتھ دھولیتے۔ چنانچہ مہمان نے ایسا ہی کیا۔امیرالمؤمنین (ع) مہمان کے ہاتھ دھلانے سے فارغ ہوئے تو بیٹے محمد بن حنفیہ کو بلایا اور فرمایا: بیٹا! اگر یہ لڑکا یہاں تنہا ہوتا اور اپنے والد کی معیت کے بغیر آیا ہوتا میں خود ہی اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالتا لیکن خداوند متعال نہیں چاہتا کہ جب باپ بیٹا ساتھ ہوں تو دونوں یکسان ہوں اور ان کے ساتھ ایک ہی انداز سلوک اپنایا جائے۔ چنانچہ باپ نے باپ کے ہاتھ دھلائے اور بیٹے نے بیٹے کے ہاتھ دھلائے۔ یہ داستان سنانے کے بعد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: "فمن اتبع عليا على ذلك فهو الشيعي حقا"۔ جس نے اس سنت میں علی علیہ السلام کی پیروی کی وہ حقیقتاً شیعہ ہے۔(أدب الضيافة تأليف جعفر البياتي ص160۔ بحار الأنوار ج 41 ص55 حدیث 5 بحوالہ المناقب ابن شہر آشوب ج1 ص310. ) تفسير الامام الحسن العسكري: 325 – 326۔ احتجاج طبرسي، ج 2، ص 517، ح 340)4۔ شیعہ کسی کی ناموس پر نظر نہیں رکھتاامام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: ایک مرد نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: فلاں شخص اپنے پڑوسی کے حرم (زوجہ) کو گھورتا ہے اور اگر ناجائز فعل ممکن ہوسکے تو وہ دریغ نہیں کرے گا۔رسول اللہ (ص) نے فرمایا: اس شخص کو حاضر کرو۔اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص)! وہ آپ کے پیروکاروں میں سے ہے اور علی علیہ السلام کا شیدائی ہے اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔فرمایا: مت کہو کہ ایسا شخص ہمارے شیعوں میں سے ہے۔ وہ جھوٹا ہے کیونکہ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو ہمارے راستے پر گامزن ہوں اور اعمال میں ہمارے پیروکار ہوں۔)لئالي الاخبار، ج ۵، ص ۱۵۷)5۔ شیعہ اپنے بھائیوں کو اپنے آپ پر مقدم رکھتے ہیںدعوے کرنے کے لئے کسی زحمت و تکلیف کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن دعؤوں سے شیعہ بننا ممکن نہیں ہے بلکہ شیعہ بننے کے لئے اپنے آپ کو فنا کرنا پڑتا ہے، گناہوں اور نافرمانیوں سے دوری کرنی پڑتی ہے ایثار و قربانی دینی پڑتی ہے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:قال الامام الحسن بن علي العسكري علیه السلام: " شيعة علي عليه السلام هم الذين يؤثرون إخوانهم على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة، وهم الذين لا يراهم الله حيث نهاهم، ولا يفقدهم حيث أمرهم، وشيعة علي هم الذين يقتدون بعلي عليه السلام في إكرام إخوانهم المؤمنين."۔(بحارالانوار ج65 ص363)امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: شیعیان علی (ع) وہ ہیں جو اپنے دینی برادران کو اپنے آپ پر مقدم رکھتے ہیں چاہے وہ خود محتاج ہی کیوں نہ ہوں،شیعیان علی (ع) وہ ہیں جو دوری کرتے ہیں ان اعمال سے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے اور انجام دیتے ہیں ان اعمال کو جن کا اللہ نے حکم دیا ہے،شیعیان علی (ع) وہ ہیں جو اپنے مؤمن بھائیوں کی تکریم میں علی علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں۔6۔ شیعہ فکر و نظر کے مالک ہیںقال الامام حسن بن علي العسكري (ع): "عليكم بالفكر فانه حياة قلب البصير و مفاتيح ابواب الحكمة".تم پر لازم ہے سوچنا اور تفکر کرنا! کیونکہ یہ بصیرت و آگہی سے مالامال دلوں کی حیات اور ابواب حکمت کی چابی ہے۔(محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 8، ص 115 و الحکم الزاهرة، ج 1، ص 19).7. شیعہ اہل بصیرت ہے / بے بصیرت آخرت میں اندھا ہےامام حسن عسکری علیہ السلام اسحاق بن اسماعیل کے خط کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "فأتم الله عليك يا إسحاق وعلى من كان مثلك - ممن قد رحمه الله وبصره بصيرتك - نعمته... فاعلم يقينا يا إسحاق أنه من خرج من هذه الدنيا أعمى فهو في الآخرة أعمى وأضل سبيلا يا إسحاق ليس تعمى الابصار ولكن تعمى القلوب التي في الصدور، وذلك قول الله في محكم كتابه حكاية عن الظالم إذ يقول: قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا ٭ قَالَ كَذَلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسَى"۔ ((سورہ طہ آیات 125 و 126) (علی بن شعبه الحرانی، تحف العقول، ص 484))اے اسحاق! خداوند متعال نے تم پر اور تم جیسوں پر، جو رحمت الہیہ اور خداداد بصیرت سے بہرہ مند ہوچکے ہیں، اپنی نعمت تمام فرمائی ہے ... اے اسحاق! پس یقین کے ساتھ جان لو کہ جو شخص دنیا سے اندھا اور بے بصیرت ہوکر اٹھے گا اس کو آخرت میں بھی گمراہ اور نابینا اٹھایا جا‏ئے گا۔ یا اسحق! (اس موضوع میں) آنکھیں نہیں ہیں جو اندھی ہوتی ہیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔ اور یہ در حقیقت کتاب محکم میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے اس ظالم سے حکایت کرتے ہوئے جو "کہے گا پروردگار! کیوں تو نے مجھے حشر میں اندھا اٹھایا حالانکہ میں آنکھوں والا تھا؟ * ارشاد ہو گا اسی طرح ہماری نشانیاں تیرے پاس آئیں تو تو نے انہیں بھلاوے میں ڈالا اور اسی طرح اب آج تو بھلایا جا رہا ہے".8۔ کثرت نماز ہی نہیں بلکہ تفکر عبادت ہےامام حسن عسکری علیہ السلام کبھی اس خطرے سے خبردار فرماتے ہیں کہ عبادت کو صرف مستحب نمازوں اور روزوں میں منحصر قرار دیا جاتا ہے اور عبادات الہیہ کے لئے مقررہ اوقات، عبادات کی کیفیت و کمیت اور زمان و مکان اور رمز و راز میں غور و تفکر نہیں کیا جاتا۔ فرماتے ہیں: "ليست العبادة كثرة الصيام و الصلوة و انما العبادة كثرة التفكر في امر الله".(بحارالانوار، ج 71، ص 322، وسائل الشیعه، ج 11، ص 153 ; اصول کافی، ج 2 ص 55 و تحف العقول، ص 518، حدیث 13)نماز و روزوں کی کثرت ہی عبادت نہیں ہے بلکہ عبادت اللہ کے امور میں غور و تفکر کرنے سے عبارت ہے۔بے شک عبادت تفکر ہی کی دعوت دیتی ہیں چنانچہ اگر عبادت فکر کے لئے راستہ ہموار نہ کرے یا فکر و تدبر کا پیش خیمہ ثابت ہو تو وہ عبادت بے روح کہلائے گی لیکن اگر عبادت تفکر کے ہمراہ ہو تو ممکن ہے کہ دنیا میں بھی انسانوں کی فلاح کا سبب بن جائے چنانچہ ایسی عبادت سے دنیا اور آخرت کی پاداش بھی ملے گی اور اس عبادت کو ای زندہ عبادت کہا جاسکے گا۔9۔ شیعہ اہل ایمان ہے اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہےاور ہاں فکر اور تدبر بھی صرف اسی وقت مفید ہے کہ ایمان، عمل اور کردار و کوشش کی بنیاد فراہم کرے ورنہ جس فکر و تدبر کے بعد امیان عمل نہ ہو وہ پسندیدہ اور کارساز نہيں ہے۔ چنانچہ امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:"خصلتان ليس فوقهما شيئ الايمان بالله، و نفع الاخوان".(بحار الانوار ج75 ص374)دو خصلتیں ہیں جن سے بہتر و برتر کوئی خصلت نہیں:1۔ اللہ تعالی پر ایمان2۔ دین