9 ستمبر 2026 - 13:19
اردنی خاتون کا ابنا سے گفتگو میں انکشاف: ایران کی مزاحمت نے اردن کے عوام کو مزید بیدار کردیا، اردن میں قابض دشمن پر سپاہ کے حملے پر خوش ہیں

اردن کے عوام نے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے میزائل حملوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اردنی شہریوں نے شدید میڈیا سنسرشپ کے باوجود ان حملوں کے مناظر کی ویڈیوز بنا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اردن کے عوام نے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے میزائل حملوں پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اردنی شہریوں نے شدید میڈیا سنسرشپ کے باوجود ان حملوں کے مناظر کی ویڈیوز بنا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

امریکی فوج کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے اور ایران کے جنوبی علاقوں میں شہریوں کے خلاف گزشتہ حملوں کے بعد ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کے جواب میں فضائی و میزائل فورس نے ’’آپریشن تنبیہ المتجاوز‘‘ کے تحت اردن کے الازرق علاقے میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ایرانی بیان کے مطابق حملے میں جنگی طیاروں کے لیے استعمال ہونے والے ہینگرز، مرمتی اور تیاری کے مراکز سمیت F-35، F-16 اور F-15 جنگی طیاروں کے شیلٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق الازرق کے علاقے میں واقع ’’موفق السلطی‘‘ ایئربیس اور ’’شاہ حسن‘‘ ایئربیس ایرانی میزائل حملوں کا ہدف تھے۔

اردنی میڈیا ایکٹیوسٹ ام صالح نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردن کے عوام جانتے ہیں کہ ایران ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، جبکہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ایرانی حملوں کا مقصد نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عرب اور مسلم دنیا کے عوام جانتے ہیں کہ ان کا اصل دشمن امریکہ ہے، جسے انہوں نے ’’شیطانِ بزرگ‘‘ قرار دیا۔

ام صالح کے مطابق، اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے ان حملوں کے مناظر کی ویڈیوز بنا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اردنی عوام کو اس پیش رفت پر خوشی ہے اور وہ اسے ایک کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کی حمایت کرنا ضروری ہے۔

اردنی خاتون نے مزید کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران وہ ان لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو مغربی اور امریکہ و اسرائیل نواز عرب میڈیا سے متاثر ہوکر خطے کی صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

ام صالح نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد اردن کے عوام میں سیاسی اور علاقائی صورتحال کے حوالے سے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ اور اس کے بعد مزاحمتی محاذ کے کردار، بالخصوص ایران کے کردار نے اردن میں عوام کو بہت کچھ سمجھنے کا موقع دیا ہے اور معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے خطے کی صورتحال کی حقیقت کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔

ان کے بقول، اردن کے عوام میں مزاحمت اور فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے آگاہی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha