اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے الانبار صوبے سے حراست میں لئے گئے القاعدہ کے ایک دہشت گرد کے اعترافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عراقی فورسز اگلے تین ہفتوں تک الانبار میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا آغاز نہ کرتیں تو مسلح دہشت گرد ٹولے الانبار میں ایک خودمختار اسلامی امارت کی تاسیس کا اعلان کرتے اور خلیج فارس کا ایک عرب ملک اس کو فوری طور پر تسلیم کرتا۔ نوری المالکی کا کہنا تھا کہ سرکاری فورسز اس وقت تک الانبار میں اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گی جب تک یہاں دہشت گرد ٹولے موجود رہیں گے اور ہم اس صوبے سے مزید افواج کے انخلاء کا ارادہ نہيں رکھتے۔ نوری المالکی کا کہنا تھا کہ گوکہ بعض عناصر الانبار سے فوج کی پسپائی کے خواہاں ہیں لیکن اس صوبے کے شریف عوام اپنی فوج کی موجودگی کا خیر مقدم کررہے ہیں اور فوج کی تعیناتی کے خواہاں ہیں کیونکہ ان کا کچھ بھی دہشت گردوں کی دستبرد سے محفوظ نہيں ہے۔ عراقی فوج نے 21 دسمبر 2013 سے دارالحکومت بغداد سے 110 کلومیٹر دور مغرب میں واقع صوبے الانبار کے صدر مقام الرمادی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ہے جہاں سے داعش، ہزاروں افراد اور دہشت گردوں کو اپنے پرچم تلے جمع کرکے پورے ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں کررہی تھی اور اس صوبے میں اپنی حکومت قائم کرنے کے منصوبے بنا رہی تھی اور اس سلسلے میں اس کو سعودی عرب اور خاص طور پر سعودی انٹیلی جنس چیف بندر بن سلطان کی ہمہ جہت حمایت حاصل تھی۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ نوری المالکی نے جس عرب ملک کی طرف سے عراق کی تقسیم کی سازش کی نسبت دی ہے، وہ سعودی عرب ہی ہے، اگرچہ بعض مبصرین نے عرب امارات اور قطر کی طرف بھی انگلی اٹھائی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
4 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 493435
عراقی وزیر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ "دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام" کہلوانے والے دہشت گرد ٹولے نے خلیج فارس کی ایک عرب ریاست کی پشت پناہی میں نام نہاد اسلامی ریاست تشکیل دینے کی سازش تیار کی تھی اور عراقی افواج نے بروقت کاروائی کرکے اس سازش کو ناکام بنایا۔