ابنا: لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوب میں حزب اللہ کے دفتر کے سامنے کار بم دھماکے میں 7 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہو ئے۔ حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کے مطابق اس دھماکے نے ایک عمارت کے بیرونی حصے اور کئی گاڑیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ پاکستان کے تجزیہ نگار پروفیسر قندیل عباس کہتے ہیں۔انٹرویو سننے کیلئے کلک کیجئے گا۔لبنان میں تشدد پسند تکفیری گروہوں کی کاروائیوں میں شدت آنے اور ان کے خطرناک نتائج سے رائے عامہ ، حکام اور لبنانی گروہوں اور شخصیات میں وسیع پیمانے پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں پروفیسر قندیل عباس نے صہیونی حکومت اور تکفیری گروہوں کو علاقے کی امن و سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا ۔ پروفیسر قندیل عباس نے ریڈیو تہران سے گفتگو میں پورے علاقے کے لئے اسرائیل اور تکفیری گروہوں کے خطرناک ثابت ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان خطرات سے مقابلے کے لئے قومی اتحاد و وحدت کے تحفظ پر تاکید کی ۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی عوام نے قومی وحدت و یکجہتی کے ذریعے صہیونی دشمن کو ناکامی کا تلخ مزہ چکھایا ہے ۔ لبنان کی تحریک امل کے سیاسی دفتر کے رکن نے اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تکفیری گروہوں سے خطرہ اسرائیل کے خطرے سے کم نہیں ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ علاقے کے ممالک منجملہ لبنان ، سعودی عرب اور اسرائیل کو علاقے میں مغربی طاقتوں کا آلۂ کار قرار دیتے ہیں جن کا مقصد اپنے اہداف کے حصول کے لئےعلاقے کے ملکوں کو کمزور کرنےکے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ لبنان کی مجلس اعلائے اسلامی شیعیان کے نائب سربراہ نے بیروت میں نماز جمعہ کے خطبوں میں ملک میں فتنہ پروروں کی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے تمام طبقے کے افراد سے لبنان میں امن و استحکام کو عملی جامہ پہنانے کا مطالبہ کیا ۔ قابل ذکر ہے کہ لبنان کے مجلس اعلائے اسلامی شیعیان کے حکام نے بیروت میں حزب اللہ کے دفترکے قریب ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ، تمام لبنانیوں کے خلاف ایک دشمنانہ اقدام ہیں ، جو ملک میں امن و سکون غارت کرنے کےمقصد سے اغیار کی جانب سے انجام پارہے ہیں ۔ جنوبی لبنان کے شہر صیدا میں السیدہ الزھراء کمپلکس میں بھی علامہ شیخ نابلسی نے کہا کہ بعض عناصر ملک میں تکفیری گروہوں کو فعال کرنے کے ذریعے لبنان کے توازن کو درھم برھم کرنے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں جاری بد امنی ممکن ہے ملک کو قبائلی جنگ میں جھونک دے ۔ لبنان کے اسلامی عمل محاذ نے بھی لبنان میں تکفیری نظریات کے فروغ پانے کے سلسلے میں خبردار کیا ۔ اسلامی عمل محاذ نے لبنان میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں تیزی آنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا لبنان میں سیاسی تعطل کا وجود ، مختلف علاقوں میں سکورٹی سے متعلق تشویش میں اضافے کا باعث بنا ہے جس نے تکفیری گروہوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں اضافے کے حالات فراہم کردیئے ہیں ۔ اسلامی عمل محاذ کے رہنماوں نے بیروت میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام لبنانی حکام سے، لبنان میں دہشت گردوں سے مقابلے کے مقصد سے مذاکرات اور مفاہمت کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کے دشمن جب بیرونی محاذوں پر اس ملک کو شکست سے دوچار نہ کرسکے تو اب وہ اندرون ملک محاذ قائم کرکے ، دہشت گردانہ کاروائیاں کررہے ہیں ۔ بیروت کے حالیہ بم دھماکوں کے سلسلے میں انجام پانے والی تحقیقات سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہےکہ یہ دھماکے مسلمانوں کے مابین تفرقہ ڈالنے کے مقصد سے صیہونی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے مقصد سے کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ اس قسم کے جرائم صہیونی حکومت کی سامراجی ماہیت کے عکاس ہیں اور صہیونی حکومت دھشتگرد گروہوں کے ساتھ ہماہنگ ہے۔ اور انسانیت کے خلاف اس قسم کی کاروائیاں ، ان کاروائیوں کے ذمہ داروں سے عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی نفرتوں کا باعث بن رہی ہیں، اور اس قسم کی کاروائیاں اسلامی مزاحمت کو اس کے مقاصد کے حصول سے نہيں روک سکتی۔ بلا شک دہشتگردی ایک عالمی خطرہ ہے لیکن مشرق وسطی اس کا خاص نشانہ ہے اوریہی وجہ ہے کہ آج شام، عراق،پاکستان اورلبنان میں سامراج اور اس کی علاقائی کٹھ پتلی حکومتوں کےا یجنٹ پورے علاقے میں دہشتگردی کا ننگا ناچ، ناچ رہے ہیں جس پر پرامن بقائے باہمی اورامن وامان پریقین رکھنے والےشہریوں اورشخصیات کوتشویش ہے قابل ذکر ہے کہ لبنان میں سرگرم عمل دہشتگرد گروہ، اپنے دہشتگردانہ اقدامات کے ذریعے اس ملک میں بدامنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ لبنان کی حکومت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہیں جو لبنانی عوام کے ووٹوں سے قائم ہوئی ہے۔اسکے باوجود اس میں دو رائے نہیں کہ کشیدگی اوربدامنی کی نئی لہر، جو علاقے اور خاصطور سے لبنان عراق،پاکستان اور شام میں ایک ساتھ اٹھی ہے، امریکہ، سعودی عرب اوراسکے تربیت یافتہ دہشتگرد گروہوں نیز اس کے بعض علاقائی اتحادی ملکوں کی سوچی سمجھی سازشوں کا ایک حصہ ہے، اور اس قسم کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے علاقائی ملکوں کے متحدہ اقدام اورعزم و ارادے کی اشد ضرورت ہے
.......
/169