اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمان کے خارجہ امور کے کمیشن کے رکن سامی العسکری کا کہنا ہے کہ اردن عراق میں سیاسی عمل کے مخالفین کے ٹھکانے میں تبدیل ہوچکا ہے اور وہ لوگ اس ملک میں بسے ہوئے ہیں جو عراقیوں کے قتل عام کے فتوے جاری کررہے ہیں۔ العسکری نے عراقی نیوز ویب سائٹ "السومریہ" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: اردن میں بسے ہوئے عراق دشمن عناصر عراقی افواج کے خلاف جنگ کے فتوے دے رہے ہیں۔ انھوں نے اردن کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق کے سلسلے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔ انھوں نے کہا: عراقی مسافرین کی طرف سے اردن کے ہوائی اڈوں اور سرحدی چوکیوں پر اردنی حکام کی شدید بدسلوکیوں کے سلسلے میں بےشمار شکایات موصول ہوئی ہیں۔ عراقی رکن پارلیمان نے کہا: عراق بھی اردن کی طرح کے فیصلے کرسکتا ہے اور جوابی کاروائی کرسکتا ہے اور اردن کو معلوم ہے کہ بغداد کے پاس بہت سے اہم اور مؤثر حربے ہیں جن کے ذریعے ادرن پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے؛ جبکہ اردن سے باہر جانے والا سامان تجارت اور اردن میں آنے والا سامان، ٹرانزٹ کے طور پر عراق سے گذرتا ہے۔ عراق میں ایک باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ عراقی حکومت اردن کو دی جانی والی امداد بند کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے کیونکہ اردن سے کئی ٹیلی ویژن چینل تشدد، فتنہ انگیزی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں اور دہشت گردی کی تشہیر و تبلیغ کررہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
1 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 491707
گوکہ سعودی عرب اور قطر شام کی طرح عراقی عوام اور حکومت کے خلاف بھی برسرپیکار ہیں لیکن اردن بھی شام اور عراق میں دراندازی کے لئے دہشت گردوں کا اڈہ بنا ہوا ہے اور نہ صرف بندر بن سلطان کی تین چوتھائی زندگی ان دنوں اردن میں گذرتی ہے بلکہ شام میں تخریبکاری کرنے والے دہشت گردوں کی طرح عراق میں سبوتاژ کی کاروائیاں کرنے والے دہشت گرد بھی اردن کو محفوظ ٹھکانہ سمجھتے ہیں۔