1 جنوری 2014 - 20:30
مالکی: بحران پیدا کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات ہرگز نہیں/ دہشت گردوں کا مفتی ہلاک، متعدد گرفتار

نوری مالکی کا کہنا تھا کہ وہ الانبار میں فتنہ پردازی کرنے والے سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے/عراقیوں کے قتل کے فتوے اردن سے (بھی) آتے ہیں/ جوابی کاروائی کرسکتے ہیں/ داعش کا مفتی بریگیڈیئر ابوالحسن الدغدوش ہلاک۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عراق نوری المالکی نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا: مذاکرات اور مکالمات صوبہ الانبار کے حقیقی فرزندوں کے ساتھ ہونگے اور ان سیاستدانوں کے ساتھ ہرگز بات چیت نہیں کروں گا جنہوں نے الانبار کو بحران زدہ صوبے میں تبدیل کیا اور گدلے پانی سے مچھلی پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بحران کو حل کرنے کے بجائے سیاسی اور انتخابی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم نے ان سیاستدانوں کو عراقی عوام پر "بوجھ" قرار دیا اور الانبار کے قبائل سے اپیل کی کہ ایک بار پھر القاعدہ کے خلاف عملی جدوجہد کے میدان میں اتریں جس طرح کہ ماضی میں انھوں نے یہ کام عبدالستار ابو ریشہ کی سرکردگی میں سرانجام دیا تھا۔ انھوں نے کہا: حکومت عراق الانبار کے اہلیان کا کھلی آغوش سے استقبال کرے گی۔ صوبہ الانبار میں ـ سینچر کے دن سے الرمادی میں عراقی ایم پی احمد العلوانی کی گرفتاری اور سرکاری افواج کے ساتھ جھڑپوں میں ان کے بھائی کی ہلاکت کے بعد سے ـ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ العلوانی سعودی حکمرانوں کے زیر سرپرستی دہشت گردوں کی سرپرستی کررہا تھا۔ نوری المالکی نے کہا: الرمادی میں دھرنے کے میدان میں لگے ہوئے خیمے اکھاڑ دیئے گئے کیونکہ یہ خیمے دہشت گردی کے لئے کمانڈنگ روم کی حیثیت سے استعمال کئے جارہے تھے اور الانبار کے عوام بھی اس قطعی باور پر پہنچ چکے تھے کہ یہ کیمپ دہشت گردانہ حملوں کے لئے منصوبہ بندی اور بم دھماکوں اور کار بم دھماکوں کے لئے تیاری کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا: الانبار میں سرکاری افواج کی کاروائی "دولۃ الاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) کا تعاقب کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے اور یہ کاروائی معینہ دائرے کے اندر اور مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔ واضح رہے کہ عراقی وزیر دفاع اور الانبار کے قبائلی زعماء اور گورنریٹ کونسل کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کے تحت 30 دسمبر کو القاعدہ کے دھرنے کے لئے لگے ہوئے خیمے اکھاڑ دیئے گئے۔قبائل کے زعماء، سرکاری اہلکاروں اور حکام کے موقف اور القاعدہ کے گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھرنے کا کیمپ القاعدہ کے لئے فورس بھرتی کرنے اور القاعدہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں بدل گیا تھا۔

عراقی رکن پارلیمان؛ عراقیوں کے قتل کے فتوے اردن سے (بھی) آتے ہیں/ جوابی کاروائی کرسکتے ہیںگوکہ سعودی عرب اور قطر شام کی طرح عراقی عوام اور حکومت کے خلاف بھی برسرپیکار ہیں لیکن اردن بھی شام اور عراق میں دراندازی کے لئے دہشت گردوں کا اڈہ بنا ہوا ہے اور نہ صرف بندر بن سلطان کی تین چوتھائی زندگی ان دنوں اردن میں گذرتی ہے بلکہ شام میں تخریبکاری کرنے والے دہشت گردوں کی طرح عراق میں سبوتاژ کی کاروائیاں کرنے والے دہشت گرد بھی اردن کو محفوظ ٹھکانہ سمجھتے ہیں۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمان کے خارجہ امور کے کمیشن کے رکن سامی العسکری کا کہنا ہے کہ اردن عراق میں سیاسی عمل کے مخالفین کے ٹھکانے میں تبدیل ہوچکا ہے اور وہ لوگ اس ملک میں بسے ہوئے ہیں جو عراقیوں کے قتل عام کے فتوے جاری کررہے ہیں۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

عراقی رکن پارلیمان؛

عراقیوں کے قتل کے فتوے اردن سے (بھی) آتے ہیں/ جوابی کاروائی کرسکتے ہیں

عراق: تکفیری ٹولے داعش کا مفتی اور بدنام زمانہ دہشت گرد شاکر وہیب ہلاک عراق افواج کی جوائنٹ کمانڈ کے اعلان کے مطابق داعش کا "مفتی" (!؟) دریائے فرات کے شمال میں سرکاری دستوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگیا ہے۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش کا صدامی مفتی "بریگیڈیئر ابوالحسن دغدش" فرات کے شمال میں سیکورٹی کاروائی کے دوران ہلاک ہوگیا ہے۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

 عراق: تکفیری ٹولے داعش کا مفتی اور بدنام زمانہ دہشت گرد شاکر وہیب ہلاک

شاکر وہیب کی ہلاکت پر عراقی فوج کا تہنیتی پیغام عراقی فوج نے ایک بیان میں بدنام دہشت گرد شاکر وہیب الفہداوی کی ہلاکت پر عراقی قوم کے نام تہنیتی پیغام جاری کیا۔ اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ الانبار کے پولیس چیف ہادی رزیج نے کہا: عراق میں بےشمار دہشت گردانہ کاروائیوں کی بنا پر عدلیہ اور پولیس کو مطلوب دہشت گرد اور داعش کا سینئر کمانڈر شاکر وہیب الفہداوی سرکاری افواج کی کاروائی میں ہلاک ہوچکا ہے۔

تفصیل کے لئے رجوع کریں:

بدنام دہشت گرد شاکر وہیب کی ہلاکت پر عراقی فوج کا تہنیتی پیغام 

...............

/٭۔٭