ابنا: بحرين کي جمعيت الوفاق اسلامي کے سکريٹري جنرل شيخ علي سلمان پر جمعے کي نماز کے خطبے ميں آل خليفہ حکومت کے خلاف اشتعال انگيز باتيں کرنے کا الزام عائد کيا گيا تھا۔ بحرين کے اٹارني جنرل نے شيخ سلمان کو حراست ميں لے کر ان سے بازپرس کي اور پھر انہيں رہا کر ديا ۔ البتہ بحريني حکومت نے ان پر ملک سے باہر نکلنے پر پابندي لگا دي ہے۔ يہ ايسي حالت ميں ہے جمعيت الوفاق اسلامي نے ايک بيان ميں کہا ہے کہ آل خليفہ حکومت کي پوليس نے شيخ علي سلمان کو اس وقت گرفتار کيا جب وہ حکومت کے خلاف ايک مظاہرے کي قيادت کررہے تھے ۔سنيچر کو شيخ علي سلمان کي گرفتاري کي خبر فورا ہي پورے ملک ميں پھيل گئي اور ہر طرف سے ان کي رہائي کا مطالبہ اور واقعے پر شديد ردعمل سامنے آنے لگا تھا اور ان کے گھر کے باہر لبناني عوام کي بڑي تعداد جمع ہوگئ تھي۔ ان کے گھر کے باہر جمع ہونے والے بحريني عوام نے آل خليفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور شيخ علي سلمان کي فوري رہائي کا مطالبہ کيا ۔لبنان کي تمام سياسي اور انقلابي تنظيموں کے رہنماؤں نے ميٹنگ کي اور اعلان کيا کہ عوام آزادي، جمہوريت اور عدل و انصاف کي حکمراني چاہتے ہيں ليکن حکومت نے دو ہزار تيرہ سے اب تک عوام کي آواز کي تشدد کے ذريعے کچلنے کي کوشش کي ہے ۔ واضح رہے کہ بحرين ميں جمہوريت کے قيام کے مطالبہ کو لے کر فروري سن دو ہزار گيارہ سے پرامن مظاہرے جاري ہيں۔...../169
28 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490647
بحرين ميں حزب اختلاف کي سب سے بڑي جماعت کے رہنما شيخ علي سلمان کو آل خليفہ حکومت کے کارندوں نے گرفتار کرنے کے بعد رہا کر ديا ہے۔