25 دسمبر 2013 - 20:30

عراق کے سابق قومی سلامتی کے مشیر موفق الربیعی نے کہا ہے کہ ایران وعراق کے تعلقات نہایت اہم اور ان میں روز بروز فروغ آرہا ہے۔

ابنا: عراق کے سیاسی عمل کے تعلق سے خلیج فارس کے بعض عرب ممالک نہایت منفی کردار ادا کررہے ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کا پائدار دوست ہے اور ان معدودے چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جو عراق کے سیاسی عمل میں مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار تین سے پہلے بھی ایران، عراقی عوام کا حامی تھی اور خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ایران نے ملت عراق سے نہایت مستحکم تعلقات قائم کئے اور سیاسی لحاظ سے بھی یہ تعلقات مستحکم ہیں۔ادھر اقتصادی امور میں وزیر اعظم نوری مالکی کے مشیر عبدالحسین عنبکی نے کہا ہے کہ عراق، ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں توسیع لارہا ہے اور اس طرح وہ ایران کے سیاسی اور اقتصادی اثر ورسوخ سے استفادہ کرکے اپنی پوزیشن بہتر بنائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے عراق کے خلاف اس وقت سے مخاصمانہ روّیہ اپنا لیا جب عراق میں خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی حکومت ختم ہوگئي اور عوامی اور جہموری حکومت بر سرکار آئي۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراق میں جاری دہشتگردی میں سعودی عرب اور قطر ملوث ہیں۔

.......

/169