4 دسمبر 2013 - 20:30
کیا امریکہ بلادالحرمین کے نظام حکومت کو بدلنا چاہتا ہے؟

مشرق وسطی سے گذرنے کے لئے تمہیدات کی ضرورت ہے جو اتحادوں کو زوال سے دوچار کریں گی۔ یہودی ریاست اور سعودی حکومت حالیہ چند عشروں کے دوران امریکہ کے قریب ترین حلیفوں میں سے تھیں چنانچہ جدید امریکی پالیسیوں کے پیش نظر یہ دونوں حکومتیں سب سے زيادہ خطرہ محسوس کررہی ہیں تاہم اسرائیل کو ابھی تک سلامتی کی بعض ضمانتیں حاصل ہیں جبکہ آل سعود کو کوئی ایسی ضمانت حاصل نہیں ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ چین اور امریکہ کے درمیان تقابل کا کھیل اب نشانیوں کی سرحدوں سے گذر کر اس حد تک برملا ہوچکا ہے کہ لگتا ہے کہ گویا دونوں ایک دوسرے کے مقاہلے میں سیکورٹی حدود کا تعین کرنا چاہتے ہیں؛ یہ تقابل اس بات کا سبب بنا ہے کہ امریکہ رفتہ رفتہ مشرق وسطی کو نظرانداز کرے اور ایشیا پیسفک کی طرف کوچ کرے۔ بےشک اسی تبدیلی کے لئے پس منظر اور ماحول تیار کرنا چاہئے اور ایسی بنیاد فراہم ہونی چاہئے جس کے تحت واشنگٹن کے مفادات مستقبل میں مسائل سے دوچار نہ ہوں۔ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی علاقے کی نئی خاکہ کشی اور اتحادوں وغیرہ پر گہرے مرتب کرے گی تاہم اس کے لئے بعض نشانیوں اور بعض لوازمات کی ضرورت ہے جنہیں یہاں مختصر طور پر قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں: 1۔ جنوب مشرقی ایشیا کی طرف سیکورٹی کوچ (Security migration) کوچ کرنے کا امریکی اشتیاق نمایاں ہوچکا ہے؛ 2۔ امریکہ پہلے سے مختلف ممالک اور علاقوں میں سنبھالی ہوئی ذمہ داریوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے جن میں مشرق وسطی یا مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ بہت اہم ہیں۔ 3۔ شرق وسطی سے گذرنے کے لئے تمہیدات کی ضرورت ہے جو اتحادوں کو زوال سے دوچار کریں گی۔ یہودی ریاست اور سعودی حکومت حالیہ چند عشروں کے دوران امریکہ کے قریب ترین حلیفوں میں سے تھیں چنانچہ جدید امریکی پالیسیوں کے پیش نظر یہ دونوں حکومتیں سب سے زيادہ خطرہ محسوس کررہی ہیں تاہم اسرائیل کو ابھی تک سلامتی کی بعض ضمانتیں حاصل ہیں جبکہ آل سعود کو کوئی ایسی ضمانت حاصل نہیں ہے۔ 4۔ خطے میں امریکی پالیسیوں کی تبدیلی شام پر حملے سے دستبرداری کے تناظر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ قبل ازیں وہ عراق سے مکمل طور پر پسپا ہوچکا ہے اور افغانستان سے بھی اپنے زیادہ تر فوجیوں کو باہر نکالنے کے درپے ہے، اور یہ اقدامات بھی اسی حوالے سے قابل ذکر ہیں؛ یعنی یہ کہ امریکہ اس علاقے میں نئی جنگ شروع کرنے کا شوقین نہيں ہے خواہ وہ ایک مختصر جنگ ہی کیوں نہ ہو۔ 5۔ امریکہ نے کئی عشروں کے بنیادی حلیفوں کو چھوڑ کر اقوام کے مطالبات منظور کرلئے جس کے لئے مصر میں سابق آمر حسنی مبارک اور تیونس کے آمر زین عابدین بن علی کی مثال دی جاسکتی ہے۔  6۔ امریکہ خطے کو مکمل طور پر خالی نہ کرے گا اور ایسے اقدامات کے درپے ہے جن کے تحت مشرق وسطی میں امریکہ کے نئے حریفوں یعنی روس اور چین کا مقابلہ کیا جاسکے گا چنانچہ ابھی اس کو کچھ تمہیدی اقدامات کرنے ہونگے۔ 7۔ قدیم اور روایتی اور کم از کم جمہوری اقدار سے بھی محروم علاقائی حلیفوں کو ترک کرنا؛ تاکہ اس کےبعد بھی وہ اپنے لبرل تفکرات کے سلسلے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دے سکے۔ امریکہ ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو بین الاقوامی سطح پر جمہوریت کا محافظ قرار نہیں دے سکتا جبکہ وہ ایسے استبدادی اور آمر حکمرانوں کا حلیف بھی ہو جو فکری اور سماجی و سیاسی پسماندگیوں کے باوجود علاقائی سطح پر تو کیا، عالمی سطح پر کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہوں۔ 8۔ امریکہ نے اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مدنظر رکھے بغیر ایران کے ساتھ مفاہمت اور حتی تعلق بحال کرنے کے شوق کا عملی اظہار کیا ہے اور جنیوا مذاکرات اور ابتدائی مفاہمت میں اس امریکی اشتیاق کو دیکھا جاسکا ہے۔ یہ مفاہمت اور امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کا رویہ اور مشرق وسطی کی آنے والی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ 9۔ اس سیاسی تبدیلی کا سب سے پہلا نشانہ سعودی حکومت ہوسکتی ہے۔ اسی بنا پر امریکہ نے شام پر حملے کے منصوبے سے پسپائی اختیار کی اور جنیوا مذاکرات میں ایران کے ساتھ مفاہمت کی اور یہ سب مشرق وسطی کی مجموعی صورت حال کے ساتھ ساتھ واقع ہوا؛ اسی وجہ سے سعودی حکومت بہت زيادہ بپھری ہوئی ہے؛ حتی کہ لبنان میں ایرانی سفارتخانے پر دہشت گردانہ حملے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے جبکہ شام کے وزير اطلاعات اور حـز اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اس حملے کی ذمہ داری کا الزام آل سعود پر ہی لگایا ہے۔ 10۔ سعودی حکومت نے حتی جنیوا مذاکرات سے بھی پہلے امریکہ سے یہ اشارے وصول کئے تھے۔ اسی بنا پر سعودی انٹیلجنس چیف بندر بن سلطان نے دورہ روس کے دوران صدر پیوٹن سے کہا تھا کہ اگر روس شام کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے اور صدر بشار الاسد کی برطرفی میں آل سعود کی مدد کرے تو علاقے سے امریکہ کے انخلا کی صورت میں "روس سعودی دروازے سے" مشرق وسطی میں داخل ہوسکے گا اور مشرق وسطی پر تسلط کے لئے سعودی عرب کے تعاون سے بہرہ مند ہوگی۔ آل سعود نے عثمانی سلطنت کی بنیادیں اکھاڑ کر برطانیہ کے حق میں یہی کردار ادا کیا تھا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو چھوڑ کر امریکہ کے لئے یہی کردار ادا کیا تھا۔ 11۔ گوکہ بندر بن سلطان پیوٹن کے غیر لچکدار رویے میں تبدیلی نہ لاسکا لیکن امریکہ جانتا ہے اس قسم کے کھیل کے میدان میں سعودی عرب کا کھیل کسی بھی ملک کے لئے زيادہ نہیں تو کم مؤثر نہیں ہے کیونکہ امریکہ نے گذشتہ صدی کے وسط میں اسی سعودی رويے کی بنا پر اسی امریکہ نے بھرپور فائدہ اٹھایا تھا اور سعودی عرب سمیت دوسری عرب ریاستوں کو زیر نگیں لایا تھا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ مشرق وسطی میں داخلے کے لئے دو یا تین اہم اور بنیادی دروازوں میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔ 12۔ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی حکومت کی طاقت میں اضافہ نہ ہونے پائے اور ریاض علاقے میں اہم اور بنیادی کردار ادا نہ کرسکے؛ اب سوال یہ ہے کہ امریکہ کو اس مقصد کے حصول کے لئے کونسا راستہ زیادہ آسان اور قابل عمل ہے؟ کیا امریکہ علاقے میں اپنے اتحادوں کے رویئے اور پالیسی میں اہم تبدیلیاں لانے کے درپے نہیں ہے؟ امریکہ کے لئے ان تبدیلیوں کا مرکز کہاں ہے؟ ............/٭۔٭