29 اگست 2026 - 14:38
تحریک امل: امام موسیٰ صدر کے اصولوں کے مطابق اسرائیل سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھا جاسکتا

لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن اور تحریک امل کے رہنما ہانی قبیسی نے کہا ہے کہ امام موسیٰ صدر نے صہیونی دشمن کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا تھا اور ان کے اصولوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات یا رابطے کی گنجائش نہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن اور تحریک امل کے رہنما ہانی قبیسی نے کہا ہے کہ امام موسیٰ صدر نے صہیونی دشمن کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا تھا اور ان کے اصولوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات یا رابطے کی گنجائش نہیں۔

امام موسیٰ صدر کی گمشدگی کی برسی کے موقع پر لبنان کے شہر المعشوق میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہانی قبیسی نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کیا، فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے بے دخل کیا اور مسلسل لبنان کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کیں۔

انہوں نے کہا کہ امام موسیٰ صدر نے اپنی زندگی انسانیت، انصاف اور فلسطین و بیت المقدس کے دفاع کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ ان کی نظر میں اسرائیل ایک ایسا دشمن تھا جس کے مقابلے میں مزاحمت ضروری تھی۔

ہانی قبیسی نے لبنان کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر بھی شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف اسرائیلی حملوں میں لبنانی شہریوں کا خون بہہ رہا ہے اور دوسری طرف بعض حلقے دشمن کے ساتھ مذاکرات اور معاہدوں کو جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں، جو قابل قبول نہیں۔

تحریک امل کے رہنما نے کہا کہ آج لبنان کے کئی سیاست دان قومی مفاد کے بجائے اپنی جماعتوں اور ذاتی سیاسی مقاصد کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ امام موسیٰ صدر نے پورے لبنان کو اپنا قومی مسئلہ سمجھا اور مذہبی، فرقہ وارانہ اور سیاسی تقسیم کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ امام موسیٰ صدر کی فکر اور اصول آج بھی لبنانی عوام کے درمیان زندہ ہیں۔ ان کا پیغام صرف شیعہ برادری تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ لبنان کے تمام مذہبی اور سماجی طبقات سے رابطے میں رہتے تھے۔

ہانی قبیسی کے مطابق امام موسیٰ صدر نے گرجا گھروں میں بھی خطاب کیا اور لبنان کے مسائل کے حل، امن اور امت مسلمہ کو صہیونی خطرے سے بچانے کے لیے مختلف عرب اور دیگر ممالک کے دورے کیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی ہے۔ قبیسی کے مطابق خطے کے بعض ممالک اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، کچھ نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کیے جبکہ بعض نے اپنے مفادات کے مطابق الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha