29 اگست 2026 - 14:21
بغداد کے امام جمعہ کا عراق کی تقسیم کی کوششوں کے خلاف انتباہ

بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراق کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے اور ملک کی وحدت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراق کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کرتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے اور ملک کی وحدت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

آیت اللہ یاسین الموسوی نے کہا کہ عراقی عوام فطری طور پر دیندار، انقلابی اور اہل بیتؑ سے گہری وابستگی رکھنے والے ہیں اور وہ ظلم و استبداد کو قبول نہیں کرتے۔

انہوں نے عراقی حکومت پر زور دیا کہ غربت، رہائش اور غیر قانونی تعمیرات جیسے عوامی مسائل کو تشدد اور سیاسی مقاصد سے بالاتر ہوکر منصفانہ اور انسانی انداز میں حل کیا جائے۔

بغداد کے امام جمعہ نے عراق کے دورے پر آنے والے ایرانی وفد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس وفد کا مقصد عراقی عوام، بالخصوص نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں ہونے والی شہید امام کی تدفین میں شریک افراد سے رابطہ کرنا تھا۔ ان کے مطابق وفد نے آیت اللہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے عراقی عوام کے لیے سلام اور اظہار تشکر پہنچایا۔

الموسوی نے کہا کہ عراق میں، خصوصاً وسطی اور جنوبی علاقوں میں، مذہبی وابستگی کی جڑیں انتہائی گہری ہیں۔ ان کے مطابق عراق کی تاریخ میں ان علاقوں نے متعدد تحریکوں اور انقلابات میں اہم کردار ادا کیا اور عوام نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔

انہوں نے عراق میں اہل بیتؑ کی تاریخی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امام علیؑ، امام حسینؑ، امام موسیٰ کاظمؑ، امام محمد تقیؑ اور امامین عسکریینؑ سے وابستگی عراقی معاشرے کے شعور میں گہری رچی بسی ہے۔

الموسوی کے مطابق مختلف ادوار میں امویوں، عباسیوں، عثمانیوں، برطانوی استعمار اور دیگر طاقتوں نے عراق کو اس کی مذہبی شناخت، تشیع اور دینی قیادت سے دور کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ شہید امام کی نماز جنازہ اور تدفین میں لاکھوں افراد کی شرکت عوام کی علماء، مراجع تقلید اور مکتب تشیع سے گہری عقیدت کا اظہار تھی اور اسے محض کسی سرکاری حکم یا تنظیم کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بغداد کے امام جمعہ نے عراق کی تقسیم کی کوششوں اور استعماری دور کی سرحدوں کو دوبارہ تشکیل دینے کے منصوبوں سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ استعمار کی جانب سے کھینچی گئی سرحدیں مسلم اقوام کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکتیں۔

انہوں نے شہید آیت اللہ سید محمد باقر صدر کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا ایک متحد امت ہے اور مسلمانوں کو سائیکس پیکو معاہدے کے تحت قائم کی گئی سرحدوں کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے۔

الموسوی نے مزید کہا کہ مرجعیت کی حیثیت اور کردار کو محض شہریت یا قومی شناخت کے دائرے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے عراق کے اعلیٰ ترین مذہبی مرجع آیت اللہ سید علی سیستانی کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے عراق کے تحفظ اور اس کے قومی و اسلامی مفادات کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے عراقی عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کی وحدت، قومی خودمختاری اور مذہبی شناخت کے خلاف کسی بھی سازش کے حوالے سے چوکس رہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha