ابنا: ایسی حالت میں جب کہ صہیونی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیاں پوری شد و مد سے جاری ہیں اور ساز باز مذاکرات کا نیا دور جو گذشتہ جولائی سے شروع ہوا تھا ان ہی اقدامات کے باعث تعطل کا شکارہوگيا ہے ، فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے اس غاصب حکومت کے ساتھ ساز باز مذاکرات ميں فلسطینی فریق کے پابند ہونے پر تاکید کی ہے ۔ اس سلسلے میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کل اسرائیل کی لیبر پارٹی کے سربراہ " اسحاق ھرٹزوگ " کے ساتھ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی ملاقات میں کہا کہ فلسطینی فریق، اسرائیلی حکام کے ساتھ طے شدہ وقت کی بنیاد پرمذاکرات کے طریقۂ کار کا پابند ہے ۔ اس ملاقات میں اسرائیل کی لیبر پارٹی کے سربراہ نے بھی اسرائيل اور فلسطینی فریق کے درمیان امن و امان کی بحالی کے مقصد سے، فلسطینی فریق کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہنے میں مدد کے لئے اس پارٹی کی آمادگی پر تاکید کی ۔ اسرائیل کی لیبر پارٹی کے سربراہ نے اسی طرح کہا کہ وہ فلسطینی فریق کے ساتھ ساز باز مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونےکے مقصد سے صحیح موقف اپنانے کے لئے اسرائيلی کابینہ پر دباؤ ڈالیں گے ۔ ھرٹزوگ نے اسی طرح فلسطینی علاقوں ميں یہودی کالونیوں کی تعمیر پر لیبر پارٹی کی مخالفت کا اعلان کیا ۔ ہرٹزوگ یہ دعوی ایسی حالت میں کررہے ہیں کہ بنیادی طور پر اسرائیل کی لیبر پارٹی، یہودی کالونیوں کی تعمیر کی پالیسی کے اہم بانیوں ميں سے ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی سبھی پارٹیاں غاصبانہ قبضے اور توسیع پسندی پر مبنی حکومت اسرائيل کی مجموعی پالیسوں میں مشترکہ نظریہ رکھتی ہیں اور ان میں اختلاف صرف ہدف تک رسائي کے طریقوں میں ہے ۔اس درمیان اسرائیل کی لیبر پارٹی ان پارٹیوں میں سے ہے جو عوام کو فریب دینے والے اقدامات کے دائرے ميں نام نہاد امن اور مذاکرات کی پالیسی فلسطینی عوام پر تھوپنے میں کوشاں رہی ہے ۔ اور غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جب بھی لیبر پارٹی صہیونی حکومت میں رہی ہے تو نہ صرف یہودی کالونیوں کی تعمیر میں کمی نہیں لائي ہے بلکہ یہ تعمیرات پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہی ہیں ۔ قابل ذکرہے کہ صہیونی حکام اور پارٹیاں ساز باز مذاکرات کو، نہ صرف اس حکومت کے بڑے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں بلکہ اسے انتخابی و تشہیراتی مہم کا ایک حصہ قرار دیتی ہیں ۔اور اسرائیلی سیاسی جماعتیں، اقتدارکی جنگ کے وقت ، سیاسی حریف پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس مسئلے سے استفادہ کرتی ہیں اور یہ صورتحال صہیونی حکومت کی موجودہ پالیسی میں واضح طور پر نمایاں ہے ۔ اس دائرے میں ایسے حالات میں جب کہ ساز باز مذاکرات بنیامین نتنیاہو کی پالیسیوں کے سبب ناکامی کے قریب پہنچ چکے ہیں ، صہیونی حکومت کی لیبر پارٹی نے ایک اپوزیشن پارٹی کے طورپر محمود عباس سے ملاقات کی ہے ۔ " اسحاق ہرٹزوگ، کہ جس نے حال ہی ميں لیبر پارٹی کی سربراہی کا عہدہ سنبھالا ہے، اس ملاقات کے ذریعےسازباز مذاکرات جاری رہنے کے حالات سازگار بنا رہے ہیں تاکہ صہیونی حکومت اس طریقے سے فلسطینیوں سے مزید مراعات حاصل کرے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسرائيل کی لیبر پارٹی کے سربراہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کے مسئلے سے اپنی پارٹی کو فائدہ پہنچانے ميں کوشاں ہیں اور وہ اس کوشش میں ہیں کہ رائےعامہ کو، جو نتنیاہو کی پالیسیوں کی شدید مخالف ہے، اپنا ہمنوا بنائیں اور اس حکومت میں سیاسی گروہوں کو لیبر پارٹی کی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرکے اقتدار تک اپنی رسائی کے لیے حالات سازگار بنائیں ۔ فلسطینی عوام صہیونی حکومت کے سیاسی ہتھکنڈوں اور اس حکومت کی سیاسی قلا بازیوں کے پیش نظر یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس غاصب حکومت کے ساتھ سازباز مذاکرات جاری رہنے ميں محمود عباس کی کارکردگي کا نتیجہ صہیونیوں کے مفادات کی خدمت کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
1 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 485460
صہیونی حکام اور پارٹیاں ساز باز مذاکرات کو، نہ صرف اس حکومت کے بڑے بڑے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتی ہیں بلکہ اسے انتخابی و تشہیراتی مہم کا ایک حصہ قرار دیتی ہیں۔