ابنا: آج ہم شام کی صورتحال پر آپ سے گفتگو کریں گے اور اس موضوع پر گفتگو کی ہے پاکستان کے دانشور جمال خانزادہ نے۔ شام میں ایک اعلی رتبہ سعودی انٹلجنس افسرکو گرفتار کرلیا گيا ہے۔ لبنان کے السفیر اخبار کے مطابق سعودی عرب کے انٹلیجنس افسر کی گرفتاری ایسے موقع پر عمل میں آئي ہے جبکہ وہ دمشق کے اسٹراٹیجیک مضافاتی علاقے مشرقی غوطہ کا محاصرہ توڑنے کے لئے دہشتگردوں کی ہدایت کررہا تھا۔ واضح رہے حالیہ جھڑپوں میں شام میں سعودی عرب کا ایک اعلی فوجی افسر مطلق المطلق ہلاک ہوا ہے جو سعودی عرب میں شاہی گارڈز کے ایک اعلی افسر کا بیٹا ہے۔ شام کے فوجی ذرائع کا کہنا ہےکہ مشرق غوط میں دہشتگردوں کےحالیہ حملوں کی ھدایت سعودی فوجی افسروں نے کی ہے۔ سعودی فوج کے اعلی افسر مطلق المطلق نے ہزاروں وہابی دہشتگردوں کے ہمراہ مشرق غوطہ پر قبضہ کرنے کےلئے حملہ کیا تھا لیکن شام کی فوج نے اس حملے کو ناکام بناکر تکفیریوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دمشق میں روس کے سفارتخانے پر مارٹر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو دہشتگردی سے تعبیر کیا ہے۔ اس بیان میں دہشتگردوں کے حملوں میں متاثر ہونے والے افراد کے ا ھل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا گيا ہے۔ دمشق میں روس کے سفارتخانے پر دہشتگردوں نے جمعرات کے دن حملہ کیا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور نو افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے پہلے بھی دمشق میں روس کے سفارتخانے پرحملے ہوئے ہیں۔اس موضوع پر ہمارے ساتھی نے گفتگو کی ہے پاکستان کے دانشور جمال خانزادہ سے اور پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ شام پر جارحیت جاری ہے اورنہ فقط امریکہ اورعرب ممالک اس کی مذمت نہیں کر رہے بلکہ شام مخالف دھشتگردوں کی حمایت کر رہے ہیں اس درمیان کن اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔شام کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اس وقت جس سازش کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے اس میں ترکی بھی بری طرح ملوث ہے۔ ترکی کے حکام ایک ایسی سازش کا شکار ہوچکے ہیں جو ان کے اپنے ملک کے لۓ بھی اور علاقائی امن کے لۓ بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اور ترک حکام جانے انجانے میں اس سازش کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔امریکہ اور صیہونی حکومت کی تیار کردہ سازش کے مطابق شام میں بدامنی مسلسل جاری ہے لیکن ابھی تک ان ممالک کو اپنی سازش میں کامیابی حاصل نہیں ہوئي ہے۔ ان کے ایجنٹوں اور دہشتگردوں کی پسپائي کی خبریں عام طور پر منظر عام پرآتی رہتی ہیں۔ البتہ یہ دہشتگرد شام میں امریکی صیہونی سازش کو کامیاب بنانے کے لۓ ہر حربہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ان دہشتگردوں کو امریکہ، صیہونی حکومت، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی حمایت حاصل ہے۔شام کے بحران کے حوالے سے ایک بات طے ہے وہ یہ کہ اس ملک کا بحران فوجی طریقے سے حل نہیں ہوسکتا ہے اس بحران کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق بھی صرف شام کے عوام کو ہی حاصل ہے۔ اور اس جانب ابھی پاکستان کے دانشورجمال خانزادہ نے بھی اشارہ کیا اوراسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بھی یہ ہے کہ شام کے بحران کو سیاسی طور پر حل کیا جاسکتا ہے اور اسی ہدف کے تحت، ایران نے 6 نکاتی فارمولہ پیش کیا جس کے تحت شام میں بشار اسد کی سربراہی میں عارضی حکومت کی تشکیل ہونے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور انتخابات کے انعقاد تک بشاراسد ہی شام کے صدر باقی رہیں گے۔ دریں اثناء شام سے ملنے والی خبروں کے مطابق سیاسی اور فوجی دونوں میدانوں میں شکست اور ناکامی کی بناء پر شام کے دہشتگرد بوکھلائے ہوئے ہیں اور اس کا بدلہ وہ شام کے عوام سے لے رہے ہیں۔ انھوں نے شام کے نہتے عوام کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رکھا ہے اور اپنی ان مجرمانہ کارروائیوں میں شدت پیدا کردی ہے جس کے نتیجے میں شام کی سیاسی صورتحال اور جنیوا دو بین الاقوامی کانفرنس سمیت اس ملک کے بحران سے متعلق سیاسی عالمی منصوبے بے یقینی کی صورتحال کا شکار ہوگۓ ہیں۔ القاعدہ سے وابستہ اسلامی حکومت برائے عراق و شام نامی تکفیریوں کے دہشتگرد گروہ نے ایک بیان میں حال ہی میں وجود میں آنے والے جبھۃ الاسلامیہ نامی تکفیریوں کے ایک اور گروہ کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے اور اس گروہ کے عناصر کا خون بہانا جائز قرار دیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب اسلامی حکومت برائے عراق و شام نامی تکفیریوں کے دہشتگرد گروہ نے ریف ادلب کے علاقے میں ایک اور دہشتگرد گروہ النصرہ کے اڈے کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ شام میں دہشتگرد گروہ جہاں آپس میں دست و گریبان ہوچکے وہیں شام کے بحران کے حل سے متعلق عالمی کوششوں کا ساتھ دینے کے سلسلے میں وہ کوئي فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام کا بحران حل کرنے کے لۓ بائیس جنوری دو ہزار چودہ کو جنیوا میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایاجائے گا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب فری سیرین آرمی کے نام سے موسوم ایک گروہ نے کہا ہے کہ وہ جنیوا دو بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ اس گروہ کے ایک کمانڈر نے سلیم ادریس نے منگل کے دن الجزیرہ ٹی وی سے کہا کہ جنیوا ٹو بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے لۓ ماحول سازگار نہیں ہے اس لۓ ہمارا گروہ اس میں شرکت نہیں کرے گا۔ سلیم ادریس نے یہ بھی کہا کہ جنیوا ٹو کانفرنس کے انعقاد کے دوران اور اس کے بعد بھی شام کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائیاں بند نہیں کی جائيں گی۔ شام کی حکومت کے مخالف قومی اتحاد نامی گروہ کے سربراہ احمد الجربا نے بھی کہا ہے کہ ان کے گروہ نے جنیوا ٹو بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنے کے سلسلے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔شام کی حکومت نے بارہا ہے کہا ہےکہ وہ اپنے ملک کا بحران پرامن طریقے سے حل کرنے کے مقصد سے بغیر کسی پیشگي شرط کے جنیوا ٹو بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرے گی۔ ان حالات میں روس کے نائب وزیر خارجہ میخائيل بوگدانف نے بشار اسد کے مخالفین کے درمیان اتحاد کے فقدان کو جنیوا ٹو بین الاقوامی کانفرنس میں ان کی عدم شرکت کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی حکومت کے مخالفین جنیوا ٹو بین الاقوامی کانفرنس کی اہمیت کو اچھی طرح جانتے ہیں لیکن اصل مشکل ان کے اندر مفاہمت کا فقدان ہے۔ ......./169
29 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 484760
حالات حاضرہ پر مشتمل پروگرام گشت و گذار کے ساتھ حاضر ہیں