27 نومبر 2013 - 20:30
صدر کی مختلف رہنماؤں سے ملاقات

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہےکہ پانچ جمع ایک کے ساتھ جینوا معاہدہ مختلف ملکوں کے ساتھ ایران کے اقتصادی تعلقات میں توسیع کا سبب بنے گا۔

ابنا: صدر نے تہران میں ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ جنیوا معاہدے سے دوسرے ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات میں موجود رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں۔ صدر مملکت نے ایران اور ترکی کے مابین تعاون میں توسیع لائےجانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے مقابلے، علاقائي ملکوں کی ارضی سالمیت اور اتحاد، استحکام و سیکورٹی کی برقراری جیسے امور کو ایران اور ترکی کے مشترکہ اہداف میں شمار کیا اور ان شعبوں میں دونوں ملکوں کے سنجیدہ تعاون پر تاکید کی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے شام کے بارے میں کچھ مسائل میں دونوں ملکوں کے اشتراک نظر بالخصوص پناہ گزینوں کی مدد کے بارے میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی، شام میں داخلی جنگ کے خاتمے، پناہ گزینوں کی وطن واپسی، قیام امن اور دہشتگردوں کے اخراج کے بارے میں ایک ہی نظر رکھتے ہیں۔اس ملاقات میں ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے ایران کے ساتھ ترکی کے تعلقات کو بے مثال قراردیا۔ انہوں نے پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر ملکوں بالخصوص ہمسایہ ملکوں اور ایران کے تعاون میں توسیع آئے گي۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقے کے مسائل حل کرنے کے لئے ترکی - ایران تعاون نہایت ضروری ہے۔ انہوں نےجنیوا -2 کانفرنس میں بھی ایران کی شرکت کو ضروری قرار دیا۔دوسری جانب صدر مملکت نے کہا ہے کہ صرف افغان عوام ہی اپنے ملک میں امن و سیکورٹی کا قیام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تہران میں افغانستان کے نائب وزیر خارجہ ضرار احمد عثمانی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران، افغانستان اور علاقہ میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کا مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی سے امن کا قیام نہیں ہوگا بلکہ افغانستان میں سیکورٹی کا قیام صرف اس ملک کے عوام کر سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ایرانی حکومت اور عوام نے ہمیشہ سے افغان عوام کا احترام کیا ہے اور گزشتہ 35 سالوں سے لاکھوں بے گھر افغان پناہ گزین ایران میں رہ رہے ہیں اور حکومت ایران نے مختلف میدانوں میں ان کی مدد کی ہے۔اس موقع پرافغانستان کے نائب وزیر خارجہ ضرار احمد عثمانی نے بھی اس ملاقات میں جنیوا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی سمجھوتے کا خیر مقدم کیا اور لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو ایران میں رہنے اور منشیات کی اسمنگلنگ سے مقابلے میں ایران کی کوششوں کو سراہا۔......./169