ابنا: آیت اللہ مکارم شیرازی نے ایران کی وزارت کوآپریٹوز، محنت و سماجی بہبود کے توسط سے منعقد ہونے والے نویں قرآنی مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سب سے پہلے حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی شہادت کے ایام کی مناسبت سے تمام شیعوں کو تعزیت پیش کرتاہوں اوروزارت کوآپریٹوز، محنت و سماجی بہبود کی جانب سے ان قرآنی مقابلوں کے انعقاد کی قدردانی کرتا ہوں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا نورانی کلام، انسانی سعادت کا جاودانی دستورالعمل اوردنیا کے تمام مسلمانوں کے اتصال کی کڑی ہے اورموجودہ حالات میں کہ جب دشمنوں کے وحشیانہ حملوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو اتحاد ویکجہتی کی ضرورت ہے، سب سے بہترین راہ یہ ہے ہم سب قرآن کے گرد جمع ہوجائیں، یہ وہی حبل اللہ اور اللہ کی مستحکم رسی ہے اورتمام دلوں کوایک دوسرے سے قریب کرتی ہے اورقرآن کریم کی سورہ آل عمران کی ۱۰۳نمبرآیت میں فرماتا ہےکہ"واعتصموا بحبل للہ جمیعا ولاتفرقوا" اوراللہ کی رسی سے تمسک وہی اس عظیم کتاب کی تعلیمات سے تمسک ہے۔ یہ وہی نوراورہدایت ہےکہ جس کا سورہ مائدہ کی ۱۵اور۱۶ آیات میں اشارہ فرمایا گیا ہے: ’’قَدْ جَاءَکُم مِنَ اللَهِ نُورٌ وَ کِتَٰبٌ مُّبِینٌ * یَهْدِی بِهِ اللَهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلامُ وَ یُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَی النُّورِ‘‘۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ نوجوانوں اور جوانوں کی کلام الہی سے آشنائی انہیں دشمن کی ثقافتی یلغارسے محفوظ رکھتی ہے اور ان کے اعتقادی اور اخلاقی بنیادی اصولوں کومستحکم کرتی ہے۔ میں ان مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام افراد کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔
.......
/169