ابنا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کےمطابق صہیونی ریاست نے سن دوہزارتیرہ کےآغاز سے اب تک فلسطینیوں کےسیکڑوں مکانات تباہ اور ہزاروں فلسطینیوں کو بےگھر کردیا ہے۔یہ ایسے عالم میں ہے کہ فلسطینیوں کے مکانات ڈھانے کی مخالف اسرائیلی کمیٹی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ سے اب تک فلسطینیوں کے کم سے کم ستائیس ہزار مکانات تباہ کئےہیں ۔صہیونی ریاست نے فلسطینی علاقوں بالخصوص قدس کو یھودیت کارنگ دینے کےلئے گذشتہ مہینوں میں فلسطینیوں کےمکانات کی تباہی کا عمل تیز کردیا ہے۔ جبکہ مقبوضہ فلسطین سے ملنے والی رپورٹیں غزہ کا محاصرہ سخت کئے جانے کےبعد اس علاقے میں رہنے والوں کی افسوسناک صورت حال کی خبر دے رہی ہيں۔صہیونی ریاست نے دوہزار سات سے غزہ پٹی کا محاصرہ تیز کیا ہے۔ان حالات میں تحریک حماس نے عرب افریقہ سربراہی اجلاس کےشرکاء سے غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرانے کی کوشش کرنےکی اپیل کی ہے۔ تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے پیر کےدن ، کویت میں عرب افریقہ سربراہی اجلاس سے اپیل کی کہ غزہ کامحاصرہ ختم کرانے کی غرض سے تعمیری اقدامات کریں۔تحریک حماس کےرکن صلاح بردوبل نے پیر کےدن کہا کہ عرب افریقہ سربراہی اجلاس میں شریک حکام کو دنیاء عرب اور عالم اسلام کے سب سےبڑے مسئلے، مسئلہ فلسطین پرخاص توجہ دینی چاہئے۔تحریک حماس کےسینئر رہنماء نے عرب وافریقی حکام سے قدس کو یھودیت کارنگ دینے کےخطرے کی جانب توجہ دینے کامطالبہ کیا اور کہا کہ انھیں صیہونی حکومت کو کالونیوں کی تعمیر کے سلسلے میں خبردار کرناچاہئے اور لاحاصل مذاکرات کی حمایت نہيں کرنی چاہئے اور فلسطینیوں کو نابرابری کے مذاکرات کی بھینٹ نہيں چڑھانا چاہئے۔اتوار کےدن کویت میں عرب وافریقی ممالک کے وزرائےخارجہ کا اجلاس شروع ہوا ہے جبکہ سربراہی اجلاس منگل کے دن ترقیاتی پارٹنرز اور سرمایہ کاری کے زيرعنوان شروع ہوگا جو دو دنوں تک جاری رہےگا۔ان حالات میں عرب افریقہ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اسرائیل کےغاصبانہ قبضے کے خاتمے پرتاکید کی گئی۔عرب افریقہ وزرائےخارجہ نے پیرکےدن کےابتدائي اجلاس میں اپنے اعلامیے کا متن تیارکیا ہے جس میں مسئلہ فلسطین کےبارے میں اتفاق رائے اور فلسطینی زمینوں سے صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کےخاتمے کی ضرورت پر اتفاق رائے ہوا۔اس اعلامیے کا متن سربراہی اجلاس کےتیسرے دن انیس اور بیس اکتوبر کو کویت میں پیش کیاجائےگا تاکہ اسے اختتامی بیان کے طورپر جاری کیاجائے۔اس اعلامیے ميں فلسطینی زمینوں سے اسرائیل کےقبضے کےخاتمے، بیت المقدس کودارالحکومت قرار دیتے ہوئے فلسطین کی خودمختار حکومت کی تشکیل اور فلسطینیوں کی وطن واپسی پرتاکیدکی گئی ہے۔عرب اور افریقی ممالک کے وزرائےخارجہ نے غاصب صیہونی حکومت کی جیلوں سےتمام فلسطینی قیدیوں کی بلاقیدوشرط رہائی پر بھی تاکیدکی ہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کےحل کےلئے صرف بیانات جاری کرنے پراکتفاء نہ کی جائے بلکہ مضبوط تعمیری اور عملی قدم اٹھایاجائے۔
.......
/169