17 نومبر 2013 - 20:30
عرب و افریقی ممالک کا اجلاس اور مسئلہ فلسطین

عرب اور افریقی ممالک کا تیسرا سربراہی اجلاس منگل اور بدہ کو کویت میں ہورہا ہے۔

ابنا: ترقیاتی پارٹنرس اور سرمایہ کاری کے زیرعنوان  عرب لیگ اور افریقن یونین کی زیر نگرانی ہونے والے اس اجلاس میں رکن ممالک کے چونتیس صدور، سات نائب صدور اور عرب و افریقی ممالک کے وزرائےاعظم نیز بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔ جبکہ کویتی ذرائع ابلاغ نے سربراہان مملکت کی سیکورٹی کے لئےسخت انتظامات کئےجانے کی خبر دی ہے۔دوسری جانب مصری اخبار الیوم السابع نے اس سلسلے کا مقدماتی اجلاس اتوار سے ہی شروع ہوجانے کی خبر دی ہے۔ اس نشست میں سربراہی اجلاس کا ایجنڈہ طے کیا جائےگا۔ ایجنڈے میں دونوں علاقوں میں سرمایہ کاری کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پروگراموں پرعمل درآمد کی غرض سے ضروری تدابیر اختیار کئے جانے کے لئے عرب اور افریقی ممالک کو فنڈ فراہم کئےجانے کا طریقہ کار طے کیا جائےگا۔عرب اورافریقی ممالک کےمشترکہ سربراہی اجلاس میں باہمی تجارتی لین دین اور اقتصادی تعلقات میں فروغ کے لئے ضروری اقدامات کو منظوری دی جائےگی۔اس سلسلے میں کویت  کے وزیرخارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ عرب اور افریقی ممالک کی مشترکہ منڈی کے قیام کے بارے میں بات چیت کا بھی امکان ہے۔لیکن جو چیز اس اجلاس کی جانب توجہ مبذول ہونے کا باعث ہے وہ ان ممالک کی مسئلہ فلسطین، فلسطینیوں کےحقوق کی حمایت اور علاقے میں صیہونی حکومت کے ایٹمی خطرات پر عرب اور افریقی ممالک کی تشویش ہے۔اس سلسلے میں عرب لیگ کےجنرل سکریٹری نبیل العربی نے کویت میں عرب – افریقی ممالک کے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کو عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔ نبیل العربی نے تاکید کےساتھ کہا کہ دنیائے عرب صیہونی حکومت کی جانب سے این پی ٹی اور سی ٹی بی ٹی پردستخط نہ کئے جانے اور اسرائیل کی ایٹمی سرگرمیوں پر کسی عالمی ایجنسی کی نگرانی نہ ہونے سے مسلسل خطرے میں ہے۔ ایسے عالم میں جب عرب لیگ کے جنرل سکریٹری سمیت پورا عالم اسلام  صیہونی حکومت کی ایٹمی سرگرمیوں پر کسی طرح کی نگرانی نہ ہونے پر خطرہ محسوس کررہا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی پر تشویش میں مبتلا ہے صیہونی حکومت روز بروز فلسطینیوں بالخصوص غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرتی جارہی ہے اور اس پورے علاقے کو اپنے محاصرے میں لئے ہوئے ہے۔اور اس سب کےباوجود سعودی عرب کے انٹیلیجنس ادارے کےسربراہ بندر بن سلطان صہیونی وزيراعظم نتن یاھو سےملاقات کررہے ہیں ۔ فلسطین سے شا‏ئع ہونےوالے اخبارالمنار کی انٹرنیٹ ویب سائٹ نے آج لکھا ہے کہ سعودی عرب کےوزيرانٹیلیجنس ادارے کےسربراہ بندر بن سلطان نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ فلسطین کے ساحلی شہر ایلات میں نتین یاھو سے ملاقات کر کے سعودی عرب و اسرائیل کےتعلقات میں فروغ، ایران کے جوہری مسئلے اور بحران شام پر تبادلہ خیال کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عرب افریقی سربراہی اجلاس میں عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کے اسرائیلی خطرات سے متعلق تشویش اورمسئلہ فلسطین کو کس حد تک اہمیت دی جاتی ہے جو عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

.......

/169