17 نومبر 2013 - 20:30
فرانس اور اسرائیل کے سازشی اقدامات

ایسے حالات میں کہ جب ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات ہونے والے ہیں فرانس کے وزیر اعظم فرانسوا اولاند آج اسرائیلی حکام سے ملاقات کررہے ہیں۔

ابنا: صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہونے فرانس کے صدر کو اسرائیل کا قریبی دوست گردانتے ہوئے ان سے درخواست کی ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےآئندہ  ہونے والے مذاکرات میں ایران کے خلاف اپنے ٹھوس موقف پر  ڈٹے رہیں۔فرانسیسی صدر کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ پیرس اور تل ابیب اپنے  دعوے کی بنیاد پر ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے میں کوشاں ہیں۔ دریں اثنا کہا جارہا ہے کہ جنیوا مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی صہیونی ززیر اعظم نیتن یاہو آئندہ بدھ کو روس کا دورہ کریں گے۔ ان کے اس دورے کا مقصد، روسی صدر ولادی میر پوتین سے ایران کے ایٹمی مسئلہ پر گفتگو کرنا ہے ۔ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کا نیا دور بدھ کو شروع ہوگا اور یہ مذاکرات سکریٹری خارجہ کی سطح پر منعقد ہوں گے۔واضح رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین جنیوا میں سات سے نو نومبر تک مذاکرات ہوئے اور ابتدائی سمجھوتے کے حصول  کے مرحلہ تک پیشرفت بھی ہوئی لیکن فرانس کی جانب سے سمجھوتہ کے حصول میں رکاوٹ ڈال دی گئی ۔ ادھر روسی وزیر خارجہ لاوروف کا یہ خیال ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین ایسے مواقف اختیارکرنے کی آمادگی رکھتے ہیں جو بہت سے مشترکہ نکات کے حامل ہیں ۔ روسی وزیر خارجہ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ ایسے مشترکہ نکات موجود ہیں جو اس سمجھوتے کو باضابطہ بنانے کے لئے اہم اور جامع معیار شمار ہوتے ہیں ۔روسی وزیر خارجہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ اب  ہمیں چاہیے کہ اس سمجھوتے کو دوجانبہ احترام کی بنیاد پر تنظیم کریں۔دریں اثنا وہائٹ ہاؤس کے بعض حکام نے بھی کہا ہے کہ فریقین ابتدائی سمجھوتے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔مبصرین کے خیال میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مابین ہونے والے مذاکرات اہم اور حساس مرحلے میں پہنچ گئے ہیں۔بعض مبصرین کا کہنا ہے اسی وجہ سے امریکی صدر بارک اوباما اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری کے لئے اسرائیل اور بنیا من نیتن یاہو کےحامیوں کے امریکی کانگریس میں  اثر ورسوخ کے استعمال میں رکاوٹ ڈالیں۔لیکن ابھی ایک جامع سمجھوتے تک رسائی کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔اس لئے کہ صہیونی لابی امریکی یہودی ادارے ایپک کے ذریعہ ہر طرح سے اس سمجھوتے میں رکاوٹ ڈالنے میں کوشاں ہے ۔ادھر واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے رابرٹ سٹلاف کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی مذاکرات امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پر وسیع پیمانےپر اثر انداز ہوئے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ ( اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اسرائیل اور امریکہ دونوں کی سلامتی کےلئے خطرہ ہیں۔ لیکن امریکی صدر اور ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر تم مذاکرات میں اٹھائے جانےوالے مسائل کے مخالف ہو تو تم جنگ پسند افراد میں شامل ہو ۔ لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ اور اسرائیل کے گہرے اسٹر ٹیجک  تعلقات کے پیش نظر یہ اختلافات ظاہری اور نمائشی ہیں۔بہر حال ایران کی مذاکرات کار ٹیم کے رکن سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہمیں مذاکرات کے حوالے سے بہت ہی سخت مراحل کا سامنا ہے  اس لئےکہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کئے جانے کے بغیر کوئی سمجھوتہ  عمل میں نہیں آسکتا۔                 

.......

/169