9 نومبر 2013 - 20:30
گروپ پانچ جمع ایک مشکلات سے دوچار

اسلامی جمہوریہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان تین روزہ تفصیلی مذاکرات ایٹمی سمجھوتے پر دستخط کی حد تک آگے بڑھے لیکن آخرکار طے پایاکہ فریقین دس دن بعد ایک بار پھر جنیوا میں مذاکرات کریں گے۔

ابنا: ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان جمعرات سے جنیوا میں نائب وزرائےخارجہ کی سطح کے مذاکرات شروع ہوئے تھے جو ایٹمی سمجھوتے پردستخط کے لئے وزرائے خارجہ کی سطح کے مذاکرات میں تبدیل ہوگئے۔مغربی فریق کے درمیان اختلاف نے سمجھوتے پر دستخط کو مشکلات سے دوچار کر دیا اور طرفین نے سنیچر کی رات مذاکرات کے اختتام  پر اتفاق کیا کہ دو نومبر دوہزار تیرہ کو ایک بارپھر مذاکرات کاآغاز ہوگا۔
جنیوا کے تین روزہ تفصیلی مذاکرات نے ثابت کردیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کا عزم کئے ہوئے ہے کہ اس کا ایٹمی  پروگرام صرف پرامن مقاصد کاحامل ہے اور وہ کسی بھی صورت میں ایرانی عوام کے اس مسلمہ حق سے چشم پوشی نہيں کرےگا۔
ایران کی ایٹمی ٹیم نے اسی تناظر میں گروپ پانچ جمع ایک کو مشترکہ مقاصد، قدم اول اور قدم دوم کے زیرعنوان  تین مرحلوں  پر مشتمل تجاویز پیش کی تھیں۔ ایران کےمذاکراتی وفد نے جنیوا میں گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین کو مشترکہ اتفاق رائے  کےلئے تیار کرلیا تھا اور اسی مقصد سے گروپ پانچ جمع ایک کے وزرائےخارجہ بھی جنیوا پہنچ گئے تھے ۔
ایسے عالم ميں جب سبھی کو توقع تھی کہ گروپ پانچ جمع ایک کے رکن ممالک کی موجودگی سے ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتہ عملی جامہ پہن لےگا، فرانسیسی وزیرخارجہ لوران فابیوس نے صہیونی لابی کا کردار ادا کیا اور یہ سمجھوتہ عملی جامہ نہ پہن سکا۔
فرانس کےوزیرخارجہ نے ایرانی وفد سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی حکومت کی سیکورٹی کی ضمانت دے ، یہ ایک ایسا مطالبہ تھا جس کا ایٹمی معاملےمیں تکنیکی مذاکرات سے کوئی ربط نہیں تھا۔ فرانس کے وزيرخارجہ کے اس رویے سے ثابت ہوگیا کہ فریق مقابل ابھی پوری طرح نیک نیتی سےمذاکرات نہيں کررہا ہے۔لوران فابیوس کی رخنہ اندازی پر مغربی حکام نےبھی تنقید کی۔
برطانوی وزارت دفاع ميں ہتھیاروں کےکنٹرول اورعدم پھیلاؤ کےادارے کے سابق سربراہ پال شولٹ نے فرانسیسی وزارت خارجہ کے منفی کردار پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ لوران فابیوس نےایٹمی مذاکرات میں بری پولیس کا کردار ادا کیا ہے۔
امریکی جریدے ویکلی اسٹینڈرڈ نے بھی ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کےلاحاصل ہونےکی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے سلسلے میں فرانس کی سوشلسٹ حکومت کاموقف امریکہ سے زیادہ سخت ہے۔
تاریخی تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ کوئي بھی  دباؤ ایران کو اس کےمسلمہ ایٹمی حق سےمحروم نہيں کرسکتا اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے سلسلے میں پابندیوں کی ناکامی نےیہ  ثابت بھی کردیا ہے۔ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے دوہزار پانچ میں یورپی فریقوں کوپیرس ميں ایک مجوزہ پیکج پیش کیا تھا لیکن مغربی ممالک نے اسے قبول نہيں کیا جبکہ اس وقت ایران کے پاس صرف ایک سوساٹھ سینٹری فیوج تھے لیکن اس وقت انیس ہزار سےزيادہ سینٹری فیوج موجود ہيں اور یہ کامیابی پابندیوں کا نتیجہ ہے۔ جیسا کہ ایرانی حکام نے بارہا تاکید کی ہے ایٹمی مذاکرات تین اصولوں باہمی احترام،  برابری اور ایرانی عوام کے حقوق پرتوجہ کی بنیاد پرقائم رہے گا اور مذاکرات کےدونوں فریقوں کےلئے نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر حسن روحانی کے بقول جنیوا مذاکرات کی کامیابی کا مطلب علاقے اور پوری دنیا کےلئے مزید امن واستحکام ہے۔

.......

/169