23 اکتوبر 2013 - 20:30
امریکہ سے خیر کی کوئی توقع نہیں

پاکستان کے وزیر اعظم اور امریکی صدر کے مابین ہونے والی ملاقات سے کسی خاص بریک تھرو کی توقع نہیں رکھنی چاہئیے۔

ابنا: پاکستان کے وزیر اعظم اور امریکی صدر کے مابین ہونے والی ملاقات سے کسی خاص بریک تھرو کی توقع نہیں رکھنی چاہئیے۔پاکستان کے دفاعی امور کے تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود نے ریڈیو تہران سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور امریکی صدر باراک اوباما کے مابین ہونے والی ملاقات سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملے بند کرے گا اس لئے کہ امریکہ کے اپنے مفادات ہیں اور امریکہ اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ہر کام کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان دھشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کےاتحادی کا کردار ادا کرے اوربقول امریکہ کے دھشتگردوں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں میں امریکہ کی مدد کرے۔واضح رہے کہ کل رات پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور امریکی صدر باراک اوباما کے مابین وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، تجارت، اقتصادی ترقی، علاقائی استحکام اور پاکستان میں توانائی کے بحران سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستان میں قیدامریکی جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اورڈرون حملے بند کرنے کے مطالبہ پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲