ابنا: سيد عباس عراقچي نے اقوام متحدہ کے دن کي مناسبت سے تہران ميں منعقدہ ايک تقريب ميں کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران نےہميشہ اقوام متحدہ کے امور اور ڈھانچےميں اصلاحات کے لئے تعميري تجاويز پيش کي ہيں انہوں نے کہا کہ دوطرفہ احترام اور مساوات و برابري بين الاقوامي ميدان ميں تعاون کي کاميابي کي ضمانت ہے-بين الاقوامي اور قانوني امور ميں ايران کے نائب وزير خارجہ سيد عباس عراقچي نے کہا کہ ايران کے عوام نے رواں سال جون ميں سياسي ميدان ميں ايک اور کارنامہ انجام دے کر دنيا والوں کو يہ پيغام ديا کہ وہ ايک ايسي دنيا کے خواہاں ہيں جو امن و صلح کا گہوارہ ہو اور جہاں انساني شرف و کرامت کا لحاظ رکھا جاتا ہو اور اعتدال قائم ہو -انہوں نے کہا کہ آج کے دور کے انسانوں کي زبان افہام و تفہيم اور اعتدال کي زبان ہوني چاہئے - ايران کے نائب وزير خارجہ نے کہاکہ اگردنياميں تعصب و تفريق ہوگي اور بين الاقومي تعلقات کے ميدان ميں زور و زبردستي کا رواج ہوگا تو اس سے تہذيبوں کا خون ہوگا اور انتہا پسندي اور تشدد ميں اضافہ ہوگا - انہوں نے کہا کہ دنيا کي اقوام جنگ و خونريزي اور انتہا پسندي سے تنگ آچکي ہيں-عباس عراقچي نے کہا کہ آج تسلط پسندانہ نظام اپني بالادستي قائم کرنے کےلئے قوموں کي بے احترامي کررہا ہے اوردنيا والوں پر اپني مرضي مسلط کرنا چاہتاہے - انہوں نے کہاکہ ايران جس کے خلاف بغاوت ہوئي جس پر جنگ مسلط کي گئي ہے اور جس کو دہشت گردي کا نشانہ بنايا گيا ہے ہميشہ يہ کوشش کرتا ہے کہ امن و صلح کے لئے عالمي سطح پر ہونےوالي کوششوں کي حمايت کرے-
.......
/169