ابنا: حسنی مبارک اور اس کے بیٹوں پر پچیس جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کو انقلاب کے زمانے میں مظاہرین کے قتل عام کا الزام ہے اور اس اسلسلے میں کل سے ایک بار پھر ان کے خلاف مقدمے کی کارروائي شروع ہوئي جو تین دن تک جاری رہے گی۔ پہلے دو دن عدالتی کارروائي بند کمرے میں ہوگي جبکہ تیسرے دن کھلی کارروائی ہوگي۔ حسنی مبارک ، اس کے بیٹوں ، سابق وزیر داخلہ حبیب عادلی ، مصر سے فرار ہوجانے والے تاجر حسین سالم اور مصر کے خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے چھ افراد کے خلاف مالی بدعنوانی ، سابق حکومت میں اپنے اثرو رسوخ کے ناجائزہ فائدہ اٹھانے اور عالمی قیمتوں کی نسبت کم قیمت میں صیہونی حکومت کو گيس دینے کے الزام میں اب تک آٹھ مرتبہ عدالتی کارروائی کی جا چکی ہے۔ لیکن مصر کے عوام کے نزدیک قابل قبول نتیجہ اور فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ مصر کے عوام کو توقع تھی کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد بہت جلد ڈکٹیٹر ، اس کے خاندان اور حکومت سے قربت رکھنے والے افراد کو مالی بدعنوانی اور دوسرے مظالم اور جرائم کے الزام میں کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ لیکن مصر کے عوام کا نہ صرف یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے بلکہ ایسا لگتا ہےکہ مصر کی عدلیہ حسنی مبارک اور اس بیٹوں کے مقدمے کے سلسلے میں ٹائم کلنگ کی پالیسی پر عمل کررہی ہے ۔ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جب بھی مصر میں سول نافرمانی میں شدت پیدا ہوتی ہے اس ملک کی عدلیہ دکھاوے کی عدالتی کارروائی کا آغاز کردیتی ہے۔ان تمام باتوں سے قطع نظر ایک اور چیز جس نے حسنی مبارک کی خیانت اور مظالم کے سلسلے میں سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے وہ عدالتی کارروائي کے ماحول سے عبارت ہے۔ حسنی مبارک اور اس کے بیٹوں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع ہوئے دو سال کا عرصہ ہورہا ہے اس دوران اس کی جسمانی صورتحال کے پیش نظر کئی مرتبہ عدالتی کارروائی کو ملتوی کیا گیا حتی مالی بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تو اسے بری بھی کردیا گيا ہے۔ اگست کے مہینے میں حسنی مبارک کی مشروط رہائی کا فیصلہ بھی جاری کردیا گيا۔ اس وقت مصر کا سابق ڈکٹیٹر نظربندی کی زندگي گزار رہا ہے۔اگرچہ ایسا نظر آتا ہے کہ مصر میں سیاسی نظام بدل چکا ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس ملک کا عدالتی نظام جوں کا توں قائم ہے ابھی تک عدالتوں پر سابقہ ججوں کا تسلط ہے۔ اسی وجہ سے حسنی مبارک اور اس کے بیٹوں کے خلاف مقدمے کی کارروائي کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔اس وقت مصر میں ناامیدی کی فضا پائي جاتی ہے۔ اس ملک میں چونکہ اقتدار فوجیوں کے پاس ہے اس لۓ حسنی مبارک اور اس کے بیٹوں کو کیفرکردار تک پہنچائے جانے سے متعلق مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اور اس گمان کو تقویت ملی ہے کہ بعید نہیں ہے کہ مصر کے موجودہ حکمران اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر اور اس کے بیٹوں کے خلاف مقدمے کی کارروائي کو اس قدر طویل کردیں کہ اس سلسلے میں لوگوں کی حساسیت میں کمی واقع ہوجائے اور اس کے بعد وہ اپنی مرضی کے مطابق عدالت سے فیصلہ صادر کروا لیں۔مصر کے عوام سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک اور اس کے بیٹوں کو سزائے موت دیۓ جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اس ملک کے فوجیوں نے مبارک کے خلاف دکھاوے کی عدالتی کارروائی کےنام پر ایک سیاسی کھیل شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ ایک ایسے ڈکٹیٹر کی زندگي بچانے کے لۓ وقت کشی کر رہے ہیں جو اسٹریچر پر بیٹھ کر عدالت میں پیش ہوتا اور بدستور تمام الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
.......
/169