ابنا: بعض طالبان گروپ غیر ملکی امداد پر چل رہے ہیں جو بدامنی پھیلاتے ہیں، عمران خان عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں، پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے پھر ورلڈ کپ جیت کر اپنا نام دنیائے کرکٹ میں امر کر لیا، اس مقبولیت کے پیش نظر انہوں نے اپنی والدہ کے نام سے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی جس میں پوری پاکستان قوم نے عمران خان کی اپیل پر بڑھ چڑھ کر ان کی مدد کی اور پاکستان کا پہلا جدید کینسر ہسپتال معرض وجود میں آیا، عوام میں اپنی پذیرائی دیکھ کر عمران خان نے کارزار سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس سوچ کے تابع کہ ہسپتال کیلئے روپے دینے والے عوام انہیں ووٹ بھی دیں گے، عمران خان سیاست میں کود پڑے۔ گذشتہ پندرہ برس سے سیاست میں ہیں۔ اس بار انہیں خیبرپختونخواہ میں حکومت بھی مل گئی۔ جو ان کے لئے یقیناً ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ عمران خان سیکیولر ذہن کے سیاست دان ہیں۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ان کے پاکستان میں بھی دفتر کے قیام کے حامی ہیں۔ نیا پاکستان ان کا ماٹو ہے اور اس کرپشن زدہ نظام کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں۔ گذشتہ روز لاہور میں ان کیساتھ اسلام ٹائمز نے مختصر گفتگو کی جو قارئین کے لئے پیش کی جا رہی ہے (ادارہ)
اسلام ٹائمز:حکومت طالبان کیساتھ مذاکرات کر رہی ہے، کیا اس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا، حکومت کہتی ہے مذاکرات کا کامیاب نہ ہوئے تو فوجی آپریشن نا گزیر ہو جائے گا، آپ کی کیا رائے ہے؟عمران خان:کسی ” ماضی میں دو مرتبہ اے پی سی نے اسی مسئلہ پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض عناصر فوجی آپریشن کو اس کا حل سمجھتے ہیں جبکہ میرا پختہ ایمان ہے کہ فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں مشرقی پاکستان کی تاریخ گواہ ہے پھر میں تو وزیرستان میں فوج بھجوانے کا مخالف رہا ہوں۔ آج بھی اس کا قائل ہوں کہ پہلے مذاکرات پھر فوجی آپریشن۔ “بھی مسئلے کا حل طاقت کا استعمال نہیں ہو سکتا، آپ کو پہلی ترجیح مذاکرات کو دینا ہو گی ہے، فوجی آپریشن آخری آپشن ہوتا ہے پھر ہمارے ہاں اے پی سی میں پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مذاکرات کو پہلی ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی ماضی میں دو مرتبہ اے پی سی نے اسی مسئلہ پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض عناصر فوجی آپریشن کو اس کا حل سمجھتے ہیں جبکہ میرا پختہ ایمان ہے کہ فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں مشرقی پاکستان کی تاریخ گواہ ہے پھر میں تو وزیرستان میں فوج بھجوانے کا مخالف رہا ہوں۔ آج بھی اس کا قائل ہوں کہ پہلے مذاکرات پھر فوجی آپریشن، یہ پہلا موقع ہے کہ ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کسی مسئلے پر ایک نقطے پر متفق ہیں۔ سیاسی جماعتیں حکومت اور فوج سب چاہتے ہیں کہ پہلے طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ اگر وہ پاکستان کے آئین اور قانون میں رہتے ہوئے مذاکرات پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر کسی قسم کے آپریشن کی ضرورت نہیں۔
اصل میں ملک دشمن طاقتیں پاکستان میں امن نہیں چاہتیں۔ وہ یہاں دھماکے، افراتفری اور لاقانونیت کا فروغ چاہتی ہیں۔ اس لئے ان کی خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ جنگ شروع کر دی جائے تاکہ یہ ملک جو اسلام کا قلعہ ہے برباد ہو جائے اس لئے بعض قوتیں طالبان کے بعض گروپوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہیں، طالبان کے 15 بڑے اور 25 چھوٹے گروپس ہیں، ان میں بعض کو غیر ملکی مدد حاصل ہے، یہ دوسروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں جبکہ طالبان کے بڑے گروپس مذاکرات کے حق میں ہیں، جب آپ مذاکرات کرنے والے گروپس کو الگ کریں گے تو چھوٹے گروپ ازخود غائب ہو جائیں گے۔ ان مں چھپے ہوئے شرسپند عناصر کھل کر سامنے آ جائیں گے، حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مزید تاخیر نہ کرے بلکہ مذاکرات شروع کر دے تاکہ ملک میں امن و آشتی کا دور شروع ہو سکے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ طالبان ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، بھلا چند ہزار طالبان بھلا کس طرح ملک فتح کر سکتے ہیں، ہماری قوم بڑی مضبوط اور فوج نہایت باصلاحیت ہے، انہیں کون شکست دے سکتا ہے۔ ہم طالبان سے آئین اور قانون میں رہتے ہوئے مذاکرات ” ملک میں دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اس وقت اضافہ ہو جب ہمارے ہاں امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا، ان ڈرون حملوں کی اجازت پرویز مشرف نے دی تھی پھر زرداری حکومت نے یہ سلسلہ جاری رکھا، اس سے نہ صرف ملکی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ ملک میں دہشت گردی بڑھتی گئی۔ جب کسی کے گاؤں پر حملہ کریں گے یا کسی کے گھر پر حملہ ہوگا تو وہ کیا ردعمل دے گا، جس کے بچے بوڑھے جوان عورتیں شہید ہو جائیں تو وہ خودکش حملہ آور ہی بنیں گے نا۔ “کے حق میں ہیں، اگر کوئی پاکستان کے آئین اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرے گا ان کے خلاف آپریشن ہو گا وہ چاہے کوئی بھی ہو۔
اسلام ٹائمز:آپ نے تو طالبان کو دفتر قائم کرکے دینے کی بات کی جس پر بہت زیادہ ردعمل آیا کہ آپ نے یہ کیا کہہ دیا؟عمران خان: ہاں ایسا ہی ہوا لیکن میں آج بھی اپنے موقف پر قائم ہوں، ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز تو کیا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ کون کون مذاکرات کے حق میں ہے اور کون مخالف، جب تک طالبان کی طرف سے باضابطہ مذاکرات میں آنے کے بعد کسی قسم کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آ جاتا ہم کس طرح ان کے خلاف فوجی آپریشن کی بات کر سکتے ہیں۔ طالبان کو مذاکرات کے لئے وزیرستان یا کہیں اپنا دفتر قائم کر لینا چاہیئے تاکہ باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔
اسلام ٹائمز:طالبان نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو وہ جنگ بندی نہیں کریں گے، کیا حکومت ڈرون حملے بند کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟عمران خان: ملک میں دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں اس وقت اضافہ ہو جب ہمارے ہاں امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا، ان ڈرون حملوں کی اجازت پرویز مشرف نے دی تھی پھر زرداری حکومت نے یہ سلسلہ جاری رکھا، اس سے نہ صرف ملکی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ ملک میں دہشت گردی بڑھتی گئی۔ جب کسی کے گاؤں پر حملہ کریں گے یا کسی کے گھر پر حملہ ہوگا تو وہ کیا ردعمل دے گا، جس کے بچے بوڑھے جوان عورتیں شہید ہو جائیں تو وہ خودکش حملہ آور ہی بنیں گے نا، ہم ڈرون حملوں پر خاموش رہے جس سے ان کی نظر میں ہم اس جرم میں برابر کے شریک بن گئے، جوں جوں ان پر ڈرون حملے بڑھتے گئے جواباً طالبان نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اس طرح دہشت گردی بڑھتی گئی، اس طرح ہمارا ملک عدم استحکام کا شکار ہوتا چلا گیا، طالبان درست کہتے ہیں کہ ڈرون حملے بند کرائے بغیر جنگ بندی ممکن نہیں۔ دہشت گردی ان واقعات میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا کا صوبہ متاثر ہوا، جہاں ہماری پارٹی کی حکومت ہے ہمارے صوبے کے تین اطراف میں فاٹا کا علاقہ ہے جہاں صوبے کو حکمرانی کا اختیار نہیں، وہاں قبائلی جرگہ سسٹم ہے یا حکومت کی طرف سے پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے جس کا اثرورسوخ اب کم ہو گیا ہے، اس لئے ان علاقوں پر اب حکومتی رٹ باقی نہیں رہی، ماضی میں قبائل نے اخلاص کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کیلئے شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان معاہدے کرائے مگر ان کی خلاف ورزی ہوتی رہی، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی ” جب بھی پشاور یا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے مولانا فضل الرحمن اور غلام احمد بلور اس سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ایسے واقعات پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصل میں انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ عوام نے اس قسم کی سیاست کرنے والوں کو انتخابات میں مسترد کر دیا تھا۔ اب وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آج کل ہر واقعہ پر سیاست کرنے لگتے ہیں۔ “کی طرح اب فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان معاہدہ فلاپ نہ ہو، اس کے لئے ہماری کوشش ہے کہ مذاکرات کے لئے دفتر اور ایجنڈے کا اعلان کیا جائے تاکہ کوئی دشمن پھر سے اپنی چال چل کر انہیں ناکام نہ بنا سکے۔
اسلام ٹائمز:آپ مذاکرات پر ہی کیوں زور دیتے ہیں جبکہ طالبان کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ان میں ذرہ بھی ٹھہراؤ نہیں آیا؟عمران خان: ہمیں چونکہ خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے میں امن قائم کرنے کیلئے مینڈیٹ دیا ہے، اس لئے ہم زیادہ تیزی کیساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے لئے کہنے والے ملک کے حقیقی خیر خواہ ہیں، جو لوگ فوجی آپریشن کا مشورہ دے رہے ہیں وہ ملک میں تشدد کا فروغ چاہتے ہیں تاکہ ایک طرف فوجی آپریشن شروع ہو اور ردعمل میں ہمارے دوسرے پرامن علاقوں اور شہروں میں حملے شروع ہو جائیں۔
اسلام ٹائمز:جب سے خیبر پختونخوا میں آپ کی حکومت بنی ہے دہشت گردی کے واقعات اور بم دھماکوں میں اضافہ ہو گیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟عمران خان: جب بھی پشاور یا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے مولانا فضل الرحمن اور غلام احمد بلور اس سے سبق حاصل کرنے کے بجائے ایسے واقعات پر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصل میں انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ عوام نے اس قسم کی سیاست کرنے والوں کو انتخابات میں مسترد کر دیا تھا۔ اب وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق آج کل ہر واقعہ پر سیاست کرنے لگتے ہیں۔ خودکش حملوں میں شہید ہونے والے افراد کے ساتھ ہمدردی کرنے کی بجائے یہ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ ان سیاسی زعما کا فرض ہے کہ اگر ملک میں کہیں ایسا ہولناک سانحہ پیش آ جائے تو لوگوں کے حوصلے بلند کریں مگر یہ لوگوں کی مایوسی میں اضافہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں، ان لوگوں نے گذشتہ 66 برس سے سیاست کرکے لوگوں کو بےوقوف بنائے رکھا اور اگر لوگوں نے انہیں مسترد کرکے ہمیں منتخب کیا ہے تو انہیں صبر کرنا چاہیئے ہم صوبہ خیبر پختونخوا میں یا ملک کا کوئی بھی حصہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، ہم اسے سیاست کرنے کا موقع خیال نہیں کرتے بلکہ ایسے مواقع پر عوام کے لئے کام کرنے کو ترجیح ” مسلم لیگ ن نے کرپشن کے خلاف جہاد کا نعرہ لگایا تھا احتساب کے اس نعرے کے سبب انہیں مقبولیت ملی جس کے سبب یہ لوگ اسمبلیوں میں آ گئے مگر اقتدار میں آتے ہی انہوں نے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا۔ زرداری کے خلاف سوئس مقدمات کھولنا ان کے ایجنڈے میں شامل تھا قوم اس کی منتظر ہے کہ حکمران کب زرداری دور کی کرپشن کے خلاف اقدامات کرتے ہیں، یہ ان کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے کہ ابھی تک نیب کا چیئرمین مقرر نہیں کیا جا سکا۔ اس لئے کہ دونوں پارٹیوں کے کیس نیب کے پاس ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ کوئی غیر جانبدار شخص چیئرمین کے عہدے پر فائز ہو جائے۔ “دیتے ہیں، ہم امن کا جھنڈا لے کر آئے ہیں ملک میں امن وامان کے قیام کے لئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔
اسلام ٹائمز: عوامی ح