6 اکتوبر 2013 - 20:30
امام زمانہ (عج) کے ظہور اور تعجیل فَرَج کیلئےچالیس دن دعا اور استغاثہ

امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعالی فَرَجَہُ الشَّریف کے لئے یکم ذوالحجۃالحرام سے چالیس دن تک دعا اور تضرع کیجائے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ اس میں کیا شک ہے کہ بحرین، جزیرہ نمائے عرب، آذربائیجان اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں مسلمانوں ـ بالخصوص شیعیان اہل بیت (ع) ـ پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں ان کے قتل کو جنت کی ضمانت قرار دیا جارہا ہے، ان کی تکفیر کی جارہی ہے اور انہیں دین کی حمایت اور اسلام کے دشمن نمبر ایک اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت کی سزا دی جارہی ہے.

امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعالی فَرَجَہُ الشَّریف کے لئے یکم ذوالحجۃالحرام سے چالیس دن تک دعا اور تضرع کی منصوبہ بندی کی جائے۔

ماتمی انجمنوں، امامبارگاہوں سے متعلقہ اداروں، دینی مدارس، مساجد کے امناء، طلبہ و طالبات اور دینی حلقوں میں بھی اس یہ مراسمات انجام پاسکتے ہیں اور کوئی انفرادی طور پر یہ اعمال انجام دینا چاہیں تو بھی اس میں کوئی حرج نہيں ہے۔

یاد رکھیں! یہ ضجہ و بکاء ان ہی چالیس دنوں کے لئے مخصوص نہيں ہے بلکہ پورے سال میں یہ سلسلہ چلایا جاسکتا ہے یہ جو ہم نے یہاں یکم ذوالحجہ سے عاشورا تک اعلان کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ذوالحج ایام معدودات پر مشتمل ہے اور پھر عشرہ ولایت اور روز مباہلہ اور آخر میں محرم کا پہلا عشرہ ہے. آپ آج سے بھی اس عمل میں شامل ہوسکتے ہيں اور چالیس دن کا ہدف متعین کرسکتے ہيں.

عاشورا سے اربعین تک بھی چالیس دن ہیں اور اس کے بعد چالیس دن کے مسلسل سلسلے چلانا آپ مؤمنین کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیماللهم انا نشکو الیک...٭نجات کے لئے عالمی استغاثہبیا دمی بنشین زارزار گریه کنیمبیاکه که ازغم هجران یارگریه کنیمترجمہآؤ بیٹھو لمحہ بھر زار زار روئیں مل کرآؤ کے ہجران اور جدائی کے اس غم میں روئیں٭زسوز ناله بلبل بهار می‏آیدبیا برای فراق بهار گریه کنیمترجمہبلبل کی فریاد سے بہار آتی ہےآؤ کہ بہار کے فراق پر گریہ کریں٭به ندبه امت موسی گرفت حاجت خویشیک اربعین بنشین تا هزار گریه کنیمترجمہ:امت موسی نے ندبہ و آہ سے حاجت طلب کی (منت مانی)آؤ ایک اربعین بیٹھ گریہ و بکاء کریں٭٭٭٭٭

غالب کہتے ہیں:

مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیےعاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیےدے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیےسیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیےسر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودیرو سوۓ قبلہ وقتِ مناجات چاہیےیعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیےنشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے

قال الامام الصادق علیہ السلام: «فلما طال علی بنی اسرائیل العذاب ضجوا و بکوا الی الله اربعین صباحاً فاوحی الله الی موسی و هارون یخلصهم من فرعون فحطّ عنهم سبعین و مأه سنة، هکذا انتم لو فعلتم لفرج الله عنا، فاما اذ لم تکونو فان الامر ینتهی الی منتهاه؛

ترجمہ: «جب بنی اسرائیل پر نازل ہونے والا عذاب کی مدت طویل ہوگئی تو وہ چالیس روز صبح کے وقت روئے اور اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کی پس خداوند متعال نے حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کے حکم دیا کہ انہیں فرعون سے نجات دلائيں؛ اور اللہ تعالی نے ان کی فراخی میں 170 کی تعجیل فرمائی چنانچہ اگر تم بھی ایسا ہی کروگے تو خداوند متعال ہماری فراخی پہنچادے گا اور ہمار ے فَرَج میں تعجیل فرمائے گا اور اگر تم ایسا نہیں کروگے تو ہماری فراخی اپنے مقررہ وقت تک مؤخر رہے گی۔

(تفسیر عیاشی جلد 2 صفحه 154)

اس سفارش کے مطابق ہم بھی 40روز تک عالمی سطح پر اللہ کی درگاہ میں گریہ و بکاء اور مناجات و راز و نیاز کرتے ہیں تا کہ خداوند متعال امام زمانہ عَجَّلَ اللہُ تَعالی فَرَجَہُ الشَّریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور چونکہ اجتماعی دعا کے اثرات زیادہ ہیں لہذا اس دعا کے لئے یکم ذوالحجۃالحرام سے 10 محرم الحرام تک کے چالیس روز کی سفارش کی جاتی ہے۔

ان 40 دنوں کے دوران صبح کے وقت گریہ و بکاء کرتے ہوئے جو اعمال انجام دیئے جاسکتے ہیں وہ یہ ہیں:دعائے فَرَج (دعائے یا من عظم البلاء)، زیارت عاشوراء، دعائے علقمہ، دعائے عہد، دعائے نُدبہ اور امام حسین علیہ السلام اور آپ (ع) کی اولاد و انصار کے لئے مجالس عزا [اور مفاتیح الجنان اور دعاؤں کی دیگر کتب میں امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لئے مأثورہ دعائیں]۔ دعائے فَرَج کے التماس کے ساتھ.......

/169