اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراقچی نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ کا نام لبنان، مغربی ایشیا اور قبضے کے خاتمے، خطے کی اقوام کی خودمختاری، عزت اور وقار کے لیے کئی دہائیوں کی جدوجہد کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ وہ کئی برس تک خطے کی سیاسی صورتحال میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے اور بالآخر صہیونی حکومت کے حملے میں شہید ہوئے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق سید حسن نصراللہ ان رہنماؤں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے قبضے، جنگ اور خطے کے مسلسل بحرانوں کے درمیان سیاست سیکھی اور اس یقین پر قائم رہے کہ کسی قوم کو طاقت، دھمکی اور خوف کے ذریعے ہمیشہ کے لیے اس کے حقِ حاکمیت، عزت اور حقِ خود ارادیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عراقچی نے کہا کہ اسی وجہ سے شہید نصراللہ کا نام کسی ایک جماعت یا سیاسی دھڑے تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کی معاصر تاریخ میں شرافت، استقامت اور صہیونی قبضے و جرائم کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر محفوظ ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ کی شہادت حزب اللہ، لبنانی عوام اور دنیا بھر کے تمام آزاد لوگوں کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، تاہم اس نے ایک بار پھر یہ تاریخی حقیقت ثابت کی کہ انسانوں کو ختم کرنا ان نظریات اور مقاصد کو ختم نہیں کر سکتا جو قوموں کے تاریخی تجربات میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔
عراقچی کے مطابق لبنان، فلسطین اور خطے کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ گہرے سیاسی اور تاریخی مسائل کو قتل، خوف اور دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ کسی قوم کے ہیروز اور رہنماؤں کو ختم کرکے اسے اپنے حقوق اور وقار کے مطالبے سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ سید مقاومت کی جدائی کے مشکل مرحلے میں شیخ نعیم قاسم کی جانب سے حزب اللہ کی قیادت کی بھاری ذمہ داری قبول کرنا، ایسے وقت میں جب خطہ تیز رفتار تبدیلیوں اور مشکلات سے گزر رہا تھا، حق طلبی اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے مقابل مزاحمت کے تسلسل کا مظہر تھا۔
عراقچی نے تاکید کی کہ شیخ نعیم قاسم کی قیادت کے دور نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ کسی مقصد پر پختہ یقین، مشکل ترین اور پیچیدہ حالات میں بھی استقامت، ثابت قدمی اور ایک راستے کے تسلسل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے شہید سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی پر ان کی یاد اور تمام شہدائے مزاحمت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ، لبنانی قوم اور ان تمام افراد کو تعزیت و مبارکباد پیش کی جو اپنی سرزمین کی آزادی، خودمختاری اور عزت کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ