28 ستمبر 2026 - 11:25
حماس کا بن گویر کی قیدیوں کو پھانسی دینے کی دھمکی پر سخت ردعمل

حماس نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت کے انتہاپسند وزیر ایتمار بن گویر کی فلسطینی قیدی حسن سلامہ کو قتل کی دھمکی، فلسطینی قیدیوں کے خلاف نئے جرائم کے ارتکاب کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ بن گویر کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے رہنما حسن سلامہ کو قتل کی دھمکی پر مبنی ویڈیو، فلسطینی قیدیوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی، بلکہ یہ جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے خلاف نئے جرائم کے ارتکاب کے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔

حماس نے تاکید کی کہ یہ دھمکیاں صہیونی حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت جیلوں کو براہِ راست جسمانی تصفیے اور قتل کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو تمام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

حماس نے کہا کہ اس نے صہیونی حکومت کی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آئندہ بھی تمام سطحوں اور دستیاب ذرائع سے یہ کوششیں جاری رکھے گی، یہاں تک کہ تمام قیدی آزادی حاصل کر لیں۔

تحریک نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام اپنے قومی مسائل اور حقوق کے ساتھ وفادار رہیں گے، جن میں قیدیوں کا مسئلہ سرفہرست ہے، اور بن گویر جیسے انتہاپسند اور جنگی جرائم کے ذمہ دار رہنما انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔

حماس نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ بن گویر اور صہیونی حکومت کے دیگر رہنماؤں کا انجام بھی تاریخ کے دیگر جنگی مجرموں جیسا ہوگا۔

دوسری جانب صہیونی حکومت کے داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے فلسطینی قیدی حسن سلامہ سے ملاقات کے دوران اسے دھمکی دی کہ وہ اس جیسے قیدیوں کو پھانسی دینے کے لیے قانون نافذ کرنے کی کوشش کرے گا۔ بن گویر نے غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کی پالیسی کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha