اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بیان میں کہا گیا کہ اس خونریز اور دہشت گردانہ واقعے کو دو سال گزر چکے ہیں، جب صہیونی حکومت کے ہاتھوں سیدِ مزاحمت، حریت کے علمبردار حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ شہید ہوئے، تاہم دشمن کے تصور کے برخلاف ان کا پاکیزہ خون خاموش نہیں ہوا بلکہ مزاحمت کے اندر اقتدار اور بالیدگی کے ایک جوشاں سرچشمے میں تبدیل ہوگیا۔
سپاہ کے بیان کے مطابق سید حسن نصراللہ صرف ایک رہنما نہیں تھے بلکہ جدید مزاحمت کے تزویراتی معمار، میدان اور سفارت کاری کے ماہر اور خطے کی مزاحمت کرنے والی اقوام کے باہمی اتحاد کی عملی علامت تھے۔ انہوں نے مزاحمت کو محض ایک جنگی حکمتِ عملی سے ایک فکری، شناختی اور تمدنی نظام میں تبدیل کیا اور ثابت کیا کہ مزاحمت محض ردعمل نہیں بلکہ ایک تزویراتی انتخاب ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سید حسن نصراللہ کی اثر پذیری لبنان اور فلسطین تک محدود نہیں تھی بلکہ یمن، عراق، شام اور خطے کے دیگر حصوں تک پھیلی ہوئی تھی اور وہ امت مسلمہ کی بیدار آواز بن گئے تھے۔
سپاہ نے کہا کہ شہید نصراللہ کا یقین تھا کہ مزاحمت ایک متحد محاذ ہے اور اس محاذ کے کسی بھی حصے میں حاصل ہونے والی فتح سب کی فتح ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سید حسن نصراللہ کی قیادت لبنان کی تاریخ کے درخشاں ادوار میں شمار ہوتی ہے اور خطے کی معاصر تاریخ میں ان کا مقام نمایاں اور دیرپا ہے۔ ان کا نام مزاحمت کی فکری روایت میں ایسے تزویراتی مفکر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے مزاحمت کو حاشیے سے نکال کر علاقائی سیاسی معادلات کے مرکز میں پہنچایا اور صہیونی حکومت کے خلاف مزاحمتی توازن قائم رکھا۔
سپاہ پاسداران کے مطابق سید حسن نصراللہ کی راہ حزب اللہ اور لبنان کی اسلامی مزاحمت شیخ نعیم قاسم کی قیادت میں پوری عزت اور اقتدار کے ساتھ جاری رکھے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے کے مختلف محاذوں پر مزاحمت نے ثابت کیا ہے کہ وہ تسلط اور قبضے کے خلاف عزت، آزادی اور استقامت کی علامت ہے۔
سپاہ پاسداران نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مزاحمت کی حمایت، مظلوموں کے حقوق کا دفاع اور بیت المقدس کی مکمل آزادی تک جدوجہد اس کی مستقل ذمہ داری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج اور عوام آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور حتمی فتح تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
آپ کا تبصرہ