29 ستمبر 2013 - 20:30
برطانیہ کا ایک ایسا سکول جہاں طالبات کا حجاب لازمی قرار

بلیک برن میں ریاستی فنڈ سے چلنے والا ایک سکول اپنی نوعیت کا پہلا سکول بن گیا ہے ، جہاں طالبات کیلئے حجاب پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ابنا: توحید الاسلام گرلز ہائی سکول کے قواعد و ضوابط کے تحت اس کی8 سو طالبات کو سکول اور گھر سے باہربھی حجاب پہننا پڑے گا، ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن کی تلاوت کرنا ہوگی اور کوئی ایسی سٹیشنری سکول نہیں لائی جائے گی ، جو غیر اسلامی تصاویر پر مشتمل ہو، مثال کے طور پر پاپ سٹارز کی تصویر وغیرہ۔ لنکاشائر کا یہ سکول ادارہ توحید ال چیریٹیبل ٹرسٹ کے تحت کام کررہا ہے، جو برطانیہ بھر میں12 مسلم فری سکول کھولنے کا خواہش مند ہے۔ وزراء نے ایسے3 سکولوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں سے 2 بلیک برن اور ایک ہیکنی ایسٹ لندن میں ہے ، جس کا آغاز گزشتہ ماہ سے ہوا ہے۔ توحید السلام گرلز ہائی سکول میں چھٹی جماعت کی 10 فیصد طالبات نقاب بھی پہنتی ہیں، جس میں پورا چہرہ چھپا رہتا ہے اور صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔تمام طالبات کو بلیک ٹراوٴزرز کے اوپر پرپل رنگ کی عبایا پہنی پڑتی ہے ، تاکہ جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھا نہ جاسکے۔ 12 سالہ ایک طالبہ کی والدہ سعیدہ دالا کہتی ہیں کہ انہوں نے اس سکول کا انتخاب اس لئے کیا ہے ، کیونکہ یہ مذہبی اور اسلامی ہے اور جب بچے پرورش پارہے ہوں تو یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ انہیں اسلامی ثقافت کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ توحید ال چیریٹیبل ٹرسٹ کے بارے میں خدشات اس وقت اٹھائے گئے ، جب2011 ء میں ایک دستاویزانتہا پسندی سے بچاوٴ کے بارے میں سابق حکومتی مشیر حارث رفیق نے محکمہ تعلیم کو بھیجی۔ اس کے باوجود ٹرسٹ کو 3فری سکول کھولنے کی اجازت مل گئی۔

.......

/169